تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 406
کہ یہ پنیز ہم میں بانٹ دو۔بندر نے ترازو لیا اور اندازاً اُسے دو ٹکڑوں میں کاٹ کر الگ الگ پلڑے میں رکھ دیا۔جب اُس نے ترازو کو اٹھایا تو دونوں پلڑوں میں کچھ فرق پڑ گیا۔اس پر بجائے دوسری طرف سے چھوٹا سا ٹکڑہ کاٹ کر کسی ہلکے پلڑے میں رکھنے کے اُس نے مُنہ مار کر بھاری ٹکڑے میں سے ایک بڑا سا ٹکڑہ کاٹ لیا۔اور جب دوبارہ دوسرا پلڑا جھک گیا تو اُس طرف سے ایک بڑا سا ٹکڑہ کاٹ کر مُنہ میں ڈال لیا اور اسی طرح وہ کبھی ایک طرف سے پنیر کا ٹکڑہ کاٹ کر کھا لیتا اور کبھی دوسری طرف سے۔یہاں تک کہ بہت تھوڑاسا پنیر رہ گیا۔اتنے میں بلّیوں کو بھی سمجھ آ گئی کہ ہم نے یہ کیا حماقت کی کہ ایک بندر کے سپرد پنیر کر دیا وہ تو اسی طرح تمام پنیر کھا جائے گا چنانچہ بلیوں نے کہا کہ حضوراب ہمیں پنیر عنایت فرما دیجئے ہم خود ہی بانٹ لیں گی۔اس پر بندر نے کہا اب تو صرف میری محنت کا بدلہ باقی رہ گیا ہے اور یہ کہہ کر اُس نے پنیر کا آخری ٹکڑہ بھی اپنے مُنہ میں ڈال لیا۔یہی ان لوگوں کا حال ہے جب بھی یہ کسی قوم کا کوئی معاملہ طے کرنے لگتے ہیں یہی کہتے ہیں کہ ہمارا حق اتنا بنتا ہے اور اس حق پر بحث کرتے کرتے سارا ملک ہضم کر جاتے ہیں اور آخر میں جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ حق مانگنے والے محروم رہ جاتے ہیں اور یہ لوگ اُن کے تمام حقوق غصب کر کے اُن پر قبضہ جما لیتے ہیں۔الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَٞۖ۰۰۳ (ان کے لئے) جو لوگوں سے تول کر لیتے ہیں تو خوب پورا کر کے لیتے ہیں۔حَلّ لُغَات۔اِکْتَالُوْا:اِکْتَالُوْا اِکْتَالَ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔اِکْتَالَ کے دو صلے آتے ہیں مِنْ اور عَلٰی چنانچہ عربی زبان میں اِکْتَالَ مِنْہُ اور اِکْتَالَ عَلَیْہِ دونوں استعمال ہوتے ہیں اور اِکْتَالَ مِنْہُ وَعَلَیْہِ اِکْتِیَالًا کے معنے ہوتے ہیں اَخَذَ مِنْہُ وَتَوَلَّی الْکَیْلَ بِنَفْسِہٖ اس نے دوسرے سے اپنا حق وزن کر کے لیا اس خصوصیت کے ساتھ کہ پیمانہ اُس نے اپنے ہاتھ میں رکھا دوسرے کے ہاتھ میں اُسے جانے نہیں دیا۔(اقرب) پس الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ کے یہ معنے ہوئے کہ جب وہ لوگوں سے اپنا حق لینے کے لئے پیمانہ کے ذریعہ فیصلہ کرتے ہیں تو پیمانہ اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں اور پھر جو کچھ لیتے ہیں پورا پورا لیتے ہیں۔تفسیر۔یوروپین اقوام کا ہر فیصلے میں اپنا اختیار رکھنا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عیسائی قوم کے جس نقص کو بیان فرمایا ہے اس کے اظہار کے لئے بعض اور الفاظ بھی استعمال ہو سکتے تھے۔مثلاً اللہ تعالیٰ یہ بھی کہہ