تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 394
داخل ہوں گے گوصَلٰی کے معنے آگ میں داخل ہونے کے ہوتے ہیں(اقرب)۔اور کفّار کی نسبت یہ فرمایا گیا ہے مگرچونکہ عربی زبان کا محاورہ ہے کہ کبھی دو باتوں کے ذکر میں ایک کی تشریح کر دی جاتی ہے اور دوسری کی تشریح اس میں آجاتی ہے اس لئے یہ بھی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ مومنوں کے داخل ہونے کے ذکر کواس لئے چھوڑ دیا ہے کہ کفّار کے جہنم میں داخلہ پر ان کے جنّت میں داخلہ کو قیاس کر لو۔اس صورت میں اس آیت کے یہ معنے کئے جائیں گے کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ مرنے کے بعد کے انتظار کی ضرورت ہی نہیں۔مومن اسی دُنیا میں جنّت میں نظر آئیں گے اور کافر اسی دنیا میں دوزخ میں نظر آئیں گے یعنے وہ اطمینان جو دلوں کو سکون بخشتا ہے کفّار کے دلوں سے کوسوں دُور ہے اور باوجود دولت و ثروت رکھنے کے وہ اپنی تمام کوششوں کا نتیجہ ٹیڑھا نکلتے ہوئے دیکھتے ہیں اور اس کے بالمقابل مومن باوجود ظاہری مشکلات اور مصائب اور تباہیوں کے یقین اور امید سے پُر ہیں اور اپنے مستقبل کو شاندار اور اپنے دین کو کامیاب دیکھ کر جنّت کے مزے لے رہے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جس شخص کو خدا تعالیٰ پر سچا ایما ن نہ ہو اسے خواہ کتنی دولت مل جائے وہ اس کے سکون و اطمینان کا موجب نہیں بن سکتی۔یورپ کے جس قدر فلاسفر ہیں وہ اس بات پر متفق ہیں کہ اطمینان یورپ والوں کے دلوں سے اُڑ چکا ہے۔باجود ظاہری شان وشوکت کے قلوب میں ایسی بے چینی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے نہ انہیں دولت کا مزہ آتا ہے نہ انہیں راحت و آرام کے سامانوں میں لذت محسوس ہوتی ہے ایک جہنم ہے جو ہر وقت ان کے دلوں پر شعلہ زن رہتی ہے۔لیکن مومن اس دنیا میں اپنےآپ کو جنت میں محسوس کرتا ہے۔وہ دنیوی لحاظ سے مال و دولت اپنے پاس نہیں رکھتا لیکن اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور وہ اپنے آپ کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی جنت میں پاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام کا ایک مشہور واقعہ ہے۔ایک مجسٹریٹ جس کے پاس آ پ کا ایک مقدمہ تھا۔اس کے متعلق آپ کو یہ خبر پہنچی کہ اس نے آپ کو سزا دینے کا پختہ فیصلہ کر لیا ہے۔یہ خبر خواجہ کمال الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام کو پہنچائی اور اس خیال کے ماتحت پہنچائی کہ نہ معلوم اب کیا ہو گا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے یہ بات سنی تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا۔وہ خدا تعالیٰ کے شیر پر ہاتھ ڈال کر تو دیکھے۔اگر وہ ہاتھ ڈالے گا تو خود زخمی ہو جائے گا مگر ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔تو مومن چونکہ خدا تعالیٰ پر کامل یقین رکھتا ہے اس لئے اس کے دل میں اطمینان ہوتا ہے کہ خواہ کیسی مصیبت آجائے میرا رب میری مدد کرے گا۔اور اس طرح اسی دنیا میں وہ جنت میں داخل ہوتا ہے۔(حیات طیبہ صفحہ ۲۶۱،۲۶۲) رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا بھی ایک واقعہ اس جنتِ ارضی کا بےمثال نمونہ پیش کرتا ہے۔غارِ ثور میں آپ