تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 395

اور حضرت ابو بکرؓ دونوں چھپے بیٹھے تھے۔دشمن اس غار کے سر پر آ پہنچا اور اس قدر قریب آگیا کہ حضرت ابو بکرؓ کو خطرہ پیدا ہو گیا کہ اب دشمن اتنا قریب ہے کہ اگر وہ ذرا جھک کر اندر کی طرف دیکھے تو وُہ ہمیں پکڑ سکتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے بھی اس خطرے کا اظہار کر دیا۔جس پر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے نہایت اطمینان کے ساتھ فرمایا لَاتَحْذَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا (الروض الانف زیرعنوان حدیث غار) غم مت کر خدا ہمارے ساتھ ہے۔تو مومن ہر وقت جنت میں رہتا ہے اور کافر ہر وقت دوزخ میں رہتا ہے۔اور اس طرح دوزخ اور جنت ہر انسان کے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے اور وہ ہر وقت یا دوزخ میں جلتا ہے یا جنت میں اطمینان سے اپنی زندگی بسر کرتا ہے۔اگر آنکھیں ہوں تو انسان اس دنیا میں یہ دوزخ اور جنت دیکھ سکتا ہے۔مگر فرماتا ہے ان کفار کو یہ جہنم ابھی نظر نہیں آتی۔یہ سمجھتے ہیں کہ شاید مومن دوزخ میں ہیں اور وہ جنت میں لیکن گھبرائو نہیں اس کا اظہار یَوْمُ الدِّیْن کو ہو جائے گا اور ہم انہیں ایک دن اپنی آنکھوں سے یہ جہنم دکھا دیں گے جس میں وہ اب مخفی طور پر جل رہے ہیں۔جب وہ دن آئے گا تو دشمن بھی کہہ اٹھے گا کہ ہاں میں جہنم میں ہوں اور مومن جنت میں۔وَ مَا هُمْ عَنْهَا بِغَآىِٕبِيْنَؕ۰۰۱۷ اور وہ کسی طرح بھی اس سے (بچ کر) غائب نہیں ہو سکتے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔یہ پورا زور لگائیں گے کہ اس جہنم میں داخل ہونے سے بچ جائیں مگر بچ نہیں سکیں گے۔آخر وہ دن آئے گا جب ان کی طاقتیں توڑ دی جائیں گی جب ان کی حکومتیں مٹا دی جائیں گی اور جب زمین اِن کے پَیروں تلے سے نکل جائے گی۔چنانچہ وہ جنگ جو آج کل ہو رہی ہے یہ خود ایک جہنم ہے جس نے ان کی طاقتوں میں تزلزل پیدا کر دیا ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ اب یورپ کے تنزّل کا وقت آ رہا ہے۔اور ابھی جیسا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا اور میں اسے دو سال سے شائع کر چکا ہوں ایک اور عظیم الشان جنگ کی تیاریاں آسمان پر ہو رہی ہیں اور اس کے نتیجہ میں ایک وہ دن آئے گا جب وہ یہ نہیں کہیں گے کہ یورپ کے تنزّل کا وقت آرہا ہے بلکہ وہ کہیں گے یورپ کے تنزل کا وقت آگیا۔قیامت کے دن تو دین حقیقی کے منکر جہنم میں جائیں گے ہی مگر اس دنیا میں بھی وہ جہنم میں داخل کر دیئے جائیں گے۔وَ مَا هُمْ عَنْهَا بِغَآىِٕبِيْنَ اور یہ اس سے بچ نہیں سکیں گے۔یہ اس سے بچنے کے لئے پورا زور لگائیں گے۔کوشش کریں گے کہ جہنم کے دروازے ان پر بند ہو جائیں۔جیسے آج کل کہیں