تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 393
گے۔یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ عیسائیوں کے تمام اعمال کو جانتے ہوں گے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ اُن کے اعمال کی حقیقت سے خوب واقف ہوں گے عیسائیت دھوکا دے گی وہ اپنے بُرے کاموں کو بھی اچھی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کرے گی مگر وہ لوگ اس دھوکا میں نہیں آئیں گے وہ ان کی نیتوںکو خوب سمجھتے ہوں گے اور جانتے ہوں گے کہ یہ لوگ اندرونی طور پر کیسے ہیں۔اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍۚ۰۰۱۴وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِيْ جَحِيْمٍۚۖ۰۰۱۵ یقیناً نیکیوں میں بڑھ جانے والے لوگ (ہمیشہ)نعمت میں (رہتے) ہیں اور بدکار لوگ بھی یقینا (ہمیشہ) جہنم میں يَّصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّيْنِ۰۰۱۶ (رہتے)ہیں وہ (خصوصیت کے ساتھ)اس میں جزا سزا کے دن داخل ہوں گے۔حَلّ لُغَات۔اَلْاَبْرَارُ اَلْاَبْرَارُ بَرٌّ کی جمع ہے جو بَرَّ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔اور بَرَّ کے معنے ہیں اَحْسَنَ الطَّاعَۃَ اِلَیْہِ وَرَفِقَ بِہٖ وَتَحَرَّی مَحَابَّہٗ وَتَوَقَّی مَکَارِھَہٗ یعنی اچھی طرح اس کی اطاعت کی اور اس کے ساتھ نرمی کا برتائو کیا نیز اس کی خوشنودی کو حاصل کرنے کی کوشش کی اوراس کی ناراضگی کی باتوںسے بچا۔(اقرب) پس اَلْاَبْرَار کے معنے ہوں گے اچھی طرح اطاعت کرنے والے اور نرمی کا برتائو کرنے اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی کو حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے اور اس کی ناراضگی سے بچنے کی کوشش کرنے والے۔اَلنَّعِیْمُ:اَلنَّعِیْمُ اَلْمَالُ یعنی نَعِیْم کے معنے مال کے ہوتے ہیں۔اور نیز اس کے معنے ہیں اَلدَّعَۃُ آرام۔کہتے ہیں رَجُلٌ نَعِیْمُ الْبَالِ اور معنے ہوتے ہیں ھَادِیُٔ الْبَالِ مُرْتَاحُہٗ آسودہ حال شخص۔اور نَعِیْمُ اللّٰہِ کے معنے ہیں عَطِیَّتُہٗ۔اللہ کا دیا ہوا عطیہ۔(اقرب) نَعِیْمٌ کے لفظ کی بناوٹ ایسی ہے کہ میں مدتوں ابتدائی عمر میں اسے جمع سمجھتا رہا۔حالانکہ یہ واحد ہے جمع نہیں۔مولوی محمد علی صاحب نے بھی اس کا ترجمہ ’’نعمتیں‘‘ کیا ہے۔حالانکہ نَعِیْمٌ کے معنے صرف نعمت کے ہیں نعمتوں کے نہیں ہیں۔مگر اس لفظ کی بناوٹ ایسی ہے کہ دھوکا لگ جاتا ہے اور غیر عرب اسے جمع سمجھنے لگ جاتا ہے۔تفسیر۔یہاں اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ۔وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِيْ جَحِيْمٍسے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مومن نعیم میں ہیں اور فجّارجحیم میں ہیں۔لیکن آگے چل کر فرما دیا يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّيْنِ کہ وہ جزا سزا کے وقت اس میں