تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 389
کر سکتا ہے مگر جواب دینے کے لئے عقلمند انسان چاہیے میری طبیعت بھی ان دنوں تیز تھی مَیں نے جھٹ کہا کہ مَیں تو آپ کو عقلمند سمجھ کر ہی آیا تھا اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ میری غلطی تھی۔اُس نے مجھے بیوقوف بنایا تھا مَیںنے اس کا حملہ اس پر اُلٹ دیا۔پس فِيْۤ اَيِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہم ہر زمانہ کے لحاظ سے انسان کو تعلیم دیتے چلے آئیں ہیں کبھی ہم نے اس کی ہدایت کے لئے کوئی تعلیم نازل کی اور کبھی کوئی۔اور وہ تعلیم ایسی تھی جو انسان کے مطابق حال تھی اور جس پر چل کر وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر سکتا تھا اس کے باوجود پہلے انبیاء کی تنقیص اور دوسری اقوام کی تنقیص (جو مسیحیوں کا شیوہ ہے) خلافِ عقل ہے اسی طرح مسیح کے بعد آنے والی مکمّل تعلیم کا انکار بھی خلافِ عقل ہے۔غرض الَّذِيْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَ۔فِيْۤ اَيِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اے انسان پہلے تو خدا نے تجھے کرم کے ساتھ پیدا کیا یعنی تیری پیدائش کو اپنے کرم کے نیچے رکھا پھر اپنے کرم کے ساتھ تجھے ہر ایسے نقص سے جو تیری ذمّہ واریوں میں حائل ہو سکتا تھا دُور کیا۔پھر دوسری چیزوں کے مقابل پر تیری تکمیل کی جب مَیں نے یہ سب کچھ کر لیا تو تُو نے اس مقصد کو ہی چھوڑ کر اَور طرف رُخ کر لیا یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ بادشاہ ایک لشکر کو تیار کرے پہلے ان کو بھرتی کرے پھر تربیت دے پھرسامان جمع کرے۔پھر سامان دے کر سواریاں حوالے کرے اور جنگ کی طرف بھجوا دے مگر وہ شہر سے باہر نکل کر ایک شراب خانہ میں جمع ہو جائیں اور جوأ کھیلنے لگیں۔کیا یہ لوگ اپنے آقا کو شرمندہ کرنے والے نہ ہوں گے۔کیا ان سے بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ کہہ کر خطاب کرنا زجر اور افسوس کے طور پر ہو گا یا جواب سکھانے کے لئے۔ہاں یہ ضرور ظاہر ہے کہ یہ افسوس اور ناراضگی ایک محسن کی ہے جو اپنے احسان جتا کر افسوس کرتا ہے کہ ہم نے کیا چاہا تھا اور تم نے کیا کر دیا۔كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِۙ۰۰۱۰ ایسا ہر گز نہیں (جو تم خیال کرتے ہو) بلکہ تم جزا سزا کو جھٹلاتے ہو۔حَلّ لُغَات۔اَلدِّیْنُ۔اَلدِّیْنُکے معنی ہیں اَلْجَزَاءُ وَالْمُکَافَأَۃُ۔جز ا اور بدلہ۔اَلْحِسَابُ۔حساب کرنا۔اَلْضَائُ۔فیصلہ کرنا۔(اقرب)