تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 388

بنی نوع انسان پر تفاخر کے معنے ہی کیا ہوئے۔میری عمر کوئی بیس سا ل کی تھی اور میں ان دنوں لاہور میں تھا کہ میاں محمد شریف صاحب ای۔اے۔سی جن سے میرے دوستانہ تعلّقات تھے مجھے ایک پادری مسٹر وُڈ کے پاس لے گئے جو مشنری کالج کا پرنسپل تھا۔اور کہنے لگےکہ چلو اس سے مذھبی مسائل پر گفتگو کریں مَیں نے کہا چلیں مَیں تیار ہوں۔اسے اُردو پوری طرح نہیں آتی تھی اور مجھے انگریزی پوری طرح نہیں آتی تھی مگر پھر بھی ہم نے آپس میں کچھ گفتگو کر ہی لی۔کچھ وہ میری مدد کر دیتا اور کچھ مَیں اس کی مدد کر دیتا اور اس طرح باتوں کا سلسلہ جاری رہا مَیں نے اس سے یہ سوال کیا کہ تم بتائو ابراہیم ؑ اور موسیٰ ؑکی نجات کس طرح ہوئی ہے۔جس ذریعہ سے ان کی نجات ہو گئی ہے اسی ذریعہ سے اب بھی لوگوں کی نجات ہو سکتی ہے اس نے کہا ابراہیمؑ اور موسیٰ ؑ حضر ت مسیح پر ایمان لا چکے تھے مَیں نے کہا وہ ایمان کس طرح لا چکے تھے وہ تو حضرت مسیح سے پہلے ہوئے ہیں۔قرآن کریم نے بھی اس سوال کو لیا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے متعلق یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ نصاریٰ میں سے تھے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے وہ تو پہلے گزر چکے تھے ان کو نصاریٰ میں سے کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے پس مَیں نے کہا کہ یہ بات تو بالکل غلط ہے۔حضرت مسیح کے داؤد کی اولاد میں سے ہونے کا بے بنیاد دعویٰ اگر حضرت مسیح پر ان کے ایمان لانے کا آپ کے پاس کوئی ثبوت ہو تو اسے پیش کریں اس نے کہا دائود نے پیشگوئی کی تھی کہ اس کی اولاد سے ایک ایسا شخص ہو گا جو خدا کا بیٹا ہو گا مَیں نے کہا حضرت مسیح تو دائود کی اولاد میں سے تھے ہی نہیں یہ پیشگوئی ان پر کس طرح چسپاں ہو سکتی ہے کیونکہ انجیل میں دو جگہ مسیح کا نسب نام درج ہے (۱)متی باب ۱ آیت ۱تا ۱۸۔اور پھر لوقا باب ۲ آیت ۲۳ ہر دو میں لکھا ہے کہ یوسف جس نے مریم سے شادی کی وہ دائود ؑکی اولاد میں سے تھا تو نہ معلوم یسُوع مسیح کس طرح دائود کی اولاد میں سے بن گیا۔حالانکہ یوسف اس کا باپ نہ تھا۔بلکہ وہ تو بے باپ پیدا ہوا۔اور ماں کی طرف سے اسرائیلیوں کا نسب نامہ ہو نہیں سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ بے باپ کے پیدا ہونے کا دعویٰ ابن دائود ؑ ہونے کے دعویٰ کے بالکل خلاف ہے اور پھر اس سے ابراہیمؑ کا ایمان کہاں سے ثابت ہواپیشگوئی تو کرے دائودؑ اور ایمان ثابت ہو ابراہیم کا اس نے کہا ابراہیم ؑ کی نسبت آتا ہے کہ اُس سے اولاد کی ترقی کا وعدہ تھا مَیں نے کہا کہ مسیح ؑ تو ابراہیم کی نسل سے نہ تھے اگر اولاد کی پیشگوئی ہے تو وہ اس کی نسبت سمجھی جائے گی جو یقینانسل ابراہیمؑ سے ہے یعنے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات نہ کہ مسیح کی نسبت جو اگر خدا کا بیٹا تھا۔تو ابراہیم ؑ کا نہ تھا اور اگر ابراہیم کا بیٹا تھا تو بات ہی ختم ہو جاتی ہے۔آخر لمبی بحث کے بعد تنگ آکر اُس نے کہا کہ یونانی میں ایک مثل ہے کہ سوال ہر بے وقوف