تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 390

تفسیر۔عیسائیت بعث بعد الموت کی منکر ہے فرماتا ہے کہ ہم تمہیں سچی بات بتاتے ہیں۔بات یہ ہے کہ یہ خیال کہ ہم مسیح پر ایمان لا کر بخشے جائیں گے یہ تو محض ایک بہانہ ہے اصل بات یہ ہے کہ تمہیں بخشے جانے یا نہ بخشے جانے پر ایمان ہی نہیں اور قیامت کے تم قائل ہی نہیں ہو چنانچہ واقعہ یہی ہے کہ ایک عیسائی پادری کو بھی قیامت کے وجود پر حقیقی ایمان نہیں ہوتا مَیں نے دیکھا ہے جب بھی وہ قیامت پر بحث کرتے ہیں اس سے ان کا منشاء صرف اتنا ہوتا ہے کہ حضرت مسیح دوبارہ آسمان سے اُتریں گے اور یہی قیامت ہو گی ٭ ورنہ موت کے بعد جو قیامت آنے والی ہے اُس پر اُن کو کوئی یقین نہیں ہوتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودی مذہب میں قیامت کاکوئی ذکر نہیں۔ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ تورات میں قیامت کا ضرور ذکر ہو گا۔اللہ تعالیٰ کا کلام اس ذکر سے خالی نہیں ہو سکتا مگر موجودہ تورات سے قیامت کے وجود کا کوئی قطعی ثبوت نہیں مِلتا۔قرآن کریم میں یہ ذکر آتا ہے کہ یہودی کہا کرتے تھے ہمیں صرف چند دن عذاب دیا جائے گا۔اس کے بعد ہم کو معاف کر دیا جائے گا۔(البقرۃ:۸۱ ) مگر اس کے لئے بھی ہمیں پُرانی کتب میں سے حوالے محنت سے تلاش کرنے پڑتے ہیں کہ یہودیوں کا یہ عقیدہ ہوا کرتا تھا اگر قیامت کا کثرت سے یہودی کتب میں ذکر ہوتا تو اس قسم کی تلاش کی کوئی ضرورت نہ ہوتی بات یہ ہے کہ یہودی مذہب میں قیامت کا اس قدر کم ذکر کیا گیا ہے کہ یہود میں سے اکثر کا یہ خیال ہے کہ قیامت کا عقیدہ درست ہی نہیں اس وجہ سے وہ اپنا سارا زور دنیا کمانے پر صرف کر دیتے ہیں یہی حال عیسائیوں کا ہے پس فرماتا ہے كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ کیوں باتیں بناتے ہو سیدھی بات یہ ہے کہ قیامت پر تمہیں ایمان ہی نہیں۔كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ کے ایک معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ صفات نیک اگر استعمال ہوں تو انسا ن کے لئے سکھ کا موجب بن جاتی ہیں اور اگر بُری صفات اختیا ر کی جائیں تو وہ انسان کے لئے دُکھ کا موجب بن جاتی ہیں ٭ ان کا یہ عقیدہ ان کی کتاب میں پایا جاتا ہے’’دعائے عام ‘‘جو کرسچن نالج سوسائٹی کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔اس میں صبح کی دعاؤں کے ضمن میں لکھا ہے کہ ہر ایک دعا کرنے والا مندرجہ ذیل عبارت دہرائے ’’میں ایمان رکھتا ہوں۔خدا قادر مطلق باپ پر جو آسمان و زمین کا خالق ہے اور یسو ع مسیح پر جو اس کا اکلوتا بیٹا ہمارا خداوند ہے وہ روح القدس کی قدرت سے پیٹ میں پڑا۔کنواری مریم سے پیدا ہوا۔پیلاطوس کے عہد میں دکھ اٹھایا۔مصلوب ہوا۔مرگیااور دفن ہوا۔عالم ارواح میں اتر گیا۔تیسرے روز مردوں میں سے جی اٹھا۔آسمان پر چڑھ گیا اور خدا قادر مطلق باپ کے دہنے بیٹھا ہے وہاں سے وہ زندوں اور مردوں کی عدالت کے لئے آنے والا ہے۔‘‘ نیز دیکھیں کتاب مذکورہ۔۔زیر عنوان بچوں کا علانیہ بپتسمہ وہ وہاں سے (یعنی مسیح) دنیا کے آخر میں زندوں اور مردوں کی عدالت کرنے کے لئے آنے والا ہے۔پس روشن کی طرح اس عبارت کے آخری فقرہ سے یہ امرواضح ہوتا ہے کہ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی ہی قیامت ہے۔