تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 387
گویا صفاتی طور پر خدا تعالیٰ کا مظہر بن سکتا ہے احادیث میں بھی اس مضمون کی طرف اشارہ ہے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تَخَلَّقُوْا بِاَخْلا قِ اللّٰہِ کہ تم اللہ تعالیٰ کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرو یعنے خدا جیسے بنو۔فِيْۤ اَيِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ کا جملہ یا تو تفسیر سمجھا جائے گا خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَ کا یعنی اُس نے خلق وہ کیا جو اس کا پسندیدہ تھا۔اس نے تسْوِیَہ وہ کیا جو اس کا پسندیدہ تھا۔اس نے عَدل وہ کیا جو اس کا پسندیدہ تھا۔اور یا پھر اس کے یہ معنے ہوں گے اور انہی معنوں کو مَیں نے اوپر ترجیح دی ہے کہ اس نے تمام ضروری طاقتیں انسان کے اندر پیدا کر کے اُسے وہ صورتِ روحانی بخشی جو اُس کی پسندیدہ تھی یعنی تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ کی قابلیت اس میں پیدا کی۔(تفسیر کبیر امام رازی زیر آیت واتخذوا اللہ ابراہیم۔۔۔) یہاں صورتِ روحانی کے معنے جو مَیں نے لئے ہیں وہی درست ہیں اس لئے کہ صورت جسمانی کا ذکر پہلے خلق میں آچکا ہے اور جو ذکر پہلے آچکا ہے اسے دوبارہ دُہرانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔اس جملہ میں صورتِ رُوحانی کی تکمیل کا ذکر ہے یہ معنے اس لئے بھی مرجح ہیں کہ انسان کا ناک ،کان اور منہ وغیرہ ایسی چیزیں نہیں ہیں جو خدا تعالیٰ کو پیاری لگیں۔خدا تعالیٰ کے نزدیک تو انسان کی روحانی صورت ہی پسندیدہ ہوتی ہے خواہ جسمانی لحاظ سے اُس کے ناک کان کا تناسب کیسا ہی کیوں نہ ہو پس فِيْۤ اَيِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ کے معنے یہ ہیں کہ تمام قوتیں پیدا کرنے کے بعد ہم نے اُسے وہ رُوحانی اُصول بتائے جو ہمارے نہایت ہی پسندیدہ تھے اور جن کے ماتحت وہ ہماری صورت پر بننے کا اہل ہو گیافِيْۤ اَيِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ میں اس طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ جب جب جو صورت تیری ہم نے پسند کی تجھ کو بخشی جو صورت رُوحانی نوح کے زمانہ میں مناسب تھی اس کے اُصول نوح ؑ کے ذریعہ سے بتائے۔جو صورت ابراہیمؑ کے زمانہ کے مطابق مناسب تھی اُس کے اصول ابراہیم ؑکے ذریعہ سے بتائے۔جو صورت موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑکے زمانہ کے مناسب تھی اُس کے اصول اُن کے ذریعہ سے بتائے اور جو صورت محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے مناسب تھی اس کے اُصول محمدؐ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے بتائے۔اسی طرح ہر قوم نے اپنے ماحول کے مطابق دنیوی ترقیات حاصل کیں اور علوم میں ایجادیں کیں۔گویا ہم نے روحانی اور جسمانی علوم زمانہ اور حالات کے مطابق نازل کئے۔تورات اس وقت نازل کی جب تورات کی ضرورت تھی اور قرآن اس وقت نازل کیا جب قرآن کی ضرورت تھی۔علوم یونانی اس وقت نازل کئے جب انسانی دماغ اُن کو سمجھنے کی قابلیت رکھتا تھا اور علوم عربیہ اس وقت نازل کئے جب انسان ان کو سمجھنے کی طاقت رکھتا تھا اور علوم مغرب اس وقت نازل کئے جب انسان ان کو سمجھنے کی طاقت رکھتا تھا۔پھر خدا تعالیٰ کے احسانات کی ناشکری کر کے دینِ حقیقی سے اجتناب اور