تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 386

وجود کو بیرونی دنیا کی نسبت سے بھی ایسا بنایا ہے کہ وہ اس پر حکومت کا اہل ہے گویا جہاں ذاتی کمال بخشا تھا وہاں نسبتی کمال بھی بخشا ہے پھر خدا تعالیٰ کے اس فعل کے بعد یہ خیال کرناکہ انسان نجات پانے کے لئے خدا تعالیٰ کے بیٹے کی قربانی کا محتاج ہے کہاں تک درست ہو سکتا ہے اور اسی طرح خدائی قانون کے ماتحت ترقی کرنے والی اقوام کو دوسروں پر فخر کرنا اور انہیں ذلیل سمجھنا اور ذلیل قرار دینا کس طرح زیب دیتا ہے۔عَدَلَکَ اور سَوّٰکَ میں امتیازی فرق یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ فَسَوّٰکَ میں صرف معمولی تسْویَہ کی طرف اشارہ نہیں جو جسم کے ساتھ تعلق رکھتا ہو بلکہ فَسَوّٰی سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے انسان کے اندر ایسے اعلیٰ درجہ کے کمالات پیدا کر دیئے ہیں جن سے اگر وہ کام لے تو خدا تعالیٰ سے بھی مل سکتا ہے۔فَعَدَلَکَ سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جس کام کے لئے اس نے انسان کو پیدا کیا تھا یعنے زمین پر خدا تعالیٰ کا نائب بننے کے لئے اس کے متعلق اس نے موازنہ کیا کہ وہ طاقتیں انسان کے اندر موجود ہیں یا نہیں یعنے وہ دوسری مخلوق پر حکومت کرنے کا اہل ہے یا نہیں اور موازنہ کر کے اُس نے انسان کو وہ سب طاقتیں بخشیں جن سے وہ مادی دنیا پر حکومت کر سکتا ہے۔عَدْلٌ کے دو معنے بتائے جا چکے ہیں ایک تو تقویم کے معنے ہیں جو فَسَوّٰکَ میں آچکے ہیں پس یہاں دوسرے معنے ہی مُراد ہیں ورنہ تکرار فضول ہو جاتی ہے جو قرآن کریم کی شان کے خلاف ہے وہ دوسرے معنے موازنہ کے ہیں یعنی دوسری چیزوں کے قویٰ کو مد نظر رکھ کر اس میں طاقتیں رکھی ہیں تا کہ وہ ان پر حکومت کر سکے اور خدا تعالیٰ کا نائب ہو سکے اور اس مضمون سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ دُنیا پر اگر کسی قوم کو حکومت ملے اور علوم سائنس پر وہ غالب آئے تو اسے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے اسے یہ قویٰ بخشے ہیں نہ کہ اُلٹا مغرور اور متکبّر ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی حکومت سے آزادی کا دعویٰ کرنے لگے اور دوسرے انسانوں پر جائز فضیلت کا مدعی بن جائے اور بجائے خدا تعالیٰ کی مغفرت حاصل کرنے کے اُس کی ناراضگی کو سُہیڑ لے۔فِيْۤ اَيِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَمیں صورت سے مراد روحانی صورت فِيْۤ اَيِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ اس جملہ سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسا ن کو وہ صورت دی جو اس کی پسندیدہ اور چنندہ صورت تھی یعنے صفات الٰہیہ کو اپنے اندرپیدا کرنے کی صلاحیت۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صورت سب سے اعلیٰ ہے جسے خدا تعالیٰ کی تصویر کھینچنے کاموقع ملے اس سے زیادہ خوش قسمت اور کون ہو سکتا ہے بائبل میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔چنانچہ لکھا ہے ’’پھر خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہہ کی مانند بنا دیں۔(پیدائش باب ۱۱ ٓیت ۲۶) اس حوالہ کا یہی مطلب ہے کہ انسان کے اندر ایسے قویٰ رکھے کہ وہ صفات الٰہیہ کو اپنے اندر جذب کر سکتا ہے اور