تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 361
خیال کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو کسی مسیح یا مہدی کی کیا ضرورت ہے۔علماء راہنمائی کا فرض سرانجام دینے کے لئے بالکل کافی ہیں مگر یہ بالکل غلط ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پہلےرَبُّ الْعٰلَمِيْنَ کو جوش آئے گا کہ میں اپنا کلام دنیا میں بھیجوں اس کے بعد بنی نوع انسان میں قرب الٰہی کی سچی خواہش پیدا ہو گی۔اس کے بغیر یہ خواہش کبھی پیدا نہیں ہو سکتی۔غرض اس آیت میں یہ اصول بتایا گیا ہے کہ جب ہدایت دنیا سے کلّی طور پر مٹ جاتی ہے گمراہی چاروں طرف چھا جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کا نور لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہو جاتا ہے۔اُس زمانہ میں جب بھی ترقی ہو گی آسمانی نشانات اور مامورالٰہی کی بعثت کے ذریعہ ہو گی۔گویا پہلے خدا کی مشیّت آسمان سے ظاہر ہو گی اور اس کے بعد لوگوں کے دلوں میں نیکی کی طرف رغبت پیدا ہو گی اسی لئے ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ کووَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ کے ساتھ ملا کر بیان کیا کہ ایک ایسا زمانہ ہوتا ہے رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ جب ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ نازل کرے تب ہی افراد کے دلوں میں نیکی کی خواہش پیدا ہوتی ہے ورنہ نہیں۔جو شخص اس نکتہ سے غافل ہوتا ہے وہ ہدایت پانے سے محروم رہ جاتا ہے۔خ خ خ خ