تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 318

مشرکین کے بچوں کے جنت میں جانے کے بارہ میں علماء کا اختلاف مشرکین کی اولاد کے بارہ میں علماء میں سخت اختلاف ہے کہ وہ جنّتی ہے یا نہیں۔اس بارہ میں احادیث بھی اور آثار بھی بعض لوگوں نے نقل کئے ہیں جو یہ ہیں۔امام احمد بن حنبل نے سلمۃ بن یزید الجعفی سے روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَلْوَائِدَۃُ وَالْمَوْءٗدَۃُ فِی النَّارِ اِلَّا اَنْ تُدْرِکَ الْوَائِدَۃُ الْاِسْلَامَ فَیَعْفُوَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَا (بحوالہ روح المعانی و ابن کثیر) کہ زندہ گاڑنے والی اور زندہ گاڑی ہوئی دونوں جہنمی ہیں سوائے اس کے کہ جو گاڑنے والی زندہ رہ جائے وہ اسلام کا زمانہ پا لے تو اسلام قبول کرنے سے اس کو اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا۔نسائی نے بھی یہ حدیث بیان کی ہے مگر نسائی کے راوی دائود بن ہندبہ ہیں۔اور ابن ابی حاتم نے بھی ابن مسعود سے یہ روایت کی ہے کہ اَلْوَائِدَۃُ وَالْمَوْءدَۃُ فِیْ النَّارِ (ابن کثیر) یعنی زندہ گاڑنے والی اور زندہ گاڑی ہوئی دونوں جہنمی ہیں۔اسی طرح ابو دائود اور نسائی حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ اَوْلَادِ الْمُشْرِکِیْنَ۔فَقَالَ ’’ اَللّٰہُ تَعَالیٰ۔اِذْخَلَقَھُمْ۔اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ‘‘ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارہ میں سوال کیا گیا۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب اُن کو پیدا کیا تھا تو وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا کرنے والے ہیں۔اس سے بھی وہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دوزخیوں کے گھر میں پیدا کیا تھا اس لئے وہ جہنم میں داخل کئے جائیں گے۔ان معنوں کی تائید میں وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی ایک روایت بھی نقل کرتے ہیں جو ابو دائود میں آتی ہے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ذَرَارِی الْمُؤْمِنِیْنَ میں نے کہا یا رسول اللہ! مومنوں کی اولاد کے متعلق کیا فتویٰ ہے؟ فَقَالَ مَن اٰبَآئِ ھِمْ۔آپ نے فرمایا وہ اپنے آباء کے ساتھ ہیں قُلْتُ بِلاَعَـمَلٍ میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا بغیر عمل کے؟ قَالَ۔اَللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ بِمَاکَانُوْا عَامِلِیْنَ۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ وہ کرنے والے تھے۔قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَذَرَارِی الْمُشْرِکِیْنَ میں نے کہا یا رسول اللہ! مشرکین کی اولاد کے متعلق کیا حکم ہے؟ فَقَالَ مَع اٰبَآءِ ھِمْ۔آپ نے فرمایا وہ اپنے آباء کے ساتھ ہیں قُلْتُ بِلَا عَمَلٍ میں نے کہا یا رسول اللہ کیا بغیر عمل کے؟ قَالَ۔اَللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اُس کو بہتر جانتا ہے جو کچھ وہ کرنے والے تھے(سنن ابو داؤد کتاب السنة باب ما فی ذراری المشرکین) اس حدیث کو پہلی حدیث سے ملا کر وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ چونکہ اولاد مشرکین نے آئندہ مشرک ہی ہونا تھا اس لئے ضروری ہے کہ ان کو دوزخ میں داخل کیا جائے اس کے علاوہ مسند احمد بن حنبل میں حضرت خدیجہؓ کی طرف منسوب کر کے ایک روایت آتی ہے کہ اُنہوں نے رسول کریم صلے اللہ