تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 319
علیہ وسلم سے اپنے دو بچوں کے متعلق پوچھا جو جاہلیت کے زمانہ میں فوت ہوئے تھے کہ اُن کا کیا حال ہے؟ آپ نے فرمایا ھُمَا فِی النَّارِ وہ دونوں دوزخ میںہیں۔(مسند احمد بن حنبل مسند حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) یہ وہ احادیث اور آثار ہیں جن سے مشرکوں کے بچوں کے دوزخ میں جانے کے متعلق استدلال کیا جاتا ہے۔امام نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں کہ تمام علماء جن کی رائے وقعت رکھتی ہے اس امر پر متفق ہیں کہ مسلمانوں کے بچے جنت میں جائیں گے کیونکہ وہ مکلّف نہیں (المنھاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج کتاب القدر باب معنی کل مولود یولد علی الفطرة)لیکن بعض نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مندرجہ ذیل حدیث کی وجہ سے توقف کیا ہے۔حدیثوں میں آتا ہے ایک انصاری بچہ ایک دفعہ مر گیا جب یہ خبر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے گھر میں پہنچی تو آپ نے فرمایا طُوْبٰی لَہٗ عُصْفُوْرٌ مِنْ عَصَافِیْرِ الْجَنَّۃِ کہ کیا برکت والا انجام ہے یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا تھی لَمْ یَعْمَلِ السُّوْٓئَ وَلَمْ یُدْرِکْہُ۔کہ نہ کوئی بُرا عمل کیا اور نہ کسی بُرے عمل کی عمر تک پہنچا۔قَالَ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوْغَیْرَ ذَالِکَ۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے یہ سُن کر فرمایا کہ یا پھر وہ دوزخی ہے۔پھر آپ نے فرمایا یَاعَائِشَۃُ اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ لِلْجَنَّۃِ اَھْلًا خَلَقَھُمْ لَھَا وَھُم فِیْ اَصْلَابِ اٰبَآئِ ھِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ اَھْلًا خَلَقَھُمْ لَھَا وَھُمْ فِیْ اَصْلَابِ اٰبَآئِ ھِمْ۔یعنی اے عائشہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے مناسب حال کچھ لوگوں کو پیدا کیا ہے اور اُن کو اس وقت سے اُس نے جنت کا اہل بنا دیا ہے جبکہ وہ ابھی اپنے باپ دادا کی پیٹھوں میں تھے اور کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دوزخ میں داخل کرنے کے لئے پیدا کیا ہے اور ان کو اُس وقت سے دوزخ کا مستحق قرار دے دیا ہے جب کہ وہ ابھی اپنے آباء کی پیٹھوں میں تھے(مسلم کتاب القدر باب معنی کل مولود یولد علی الفطرة)۔جو لوگ اِس بات کے قائل ہیں کہ مومنوں کی اولاد مرنے کے بعد جنت میں جاتی ہے وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ شاید رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا یہ مطلب ہو گا کہ بے دلیل بات سے قطعی نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے۔تم نے جو کچھ کہا ہے وہ ایک استدلال ہے اس استدلال پر اپنے عقیدہ کی بنیاد کیوں رکھتی ہو۔اور بعض کہتے ہیں کہ شائد رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے انکشاف حقیقت سے پہلے یہ فرمایا ہو۔جب آپ پر انکشاف حقیقت ہو گیا۔اور آپ کو معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کا کیا منشاء ہے تو آپؐ نے اپنے اس عقیدہ کو بدل لیاچنانچہ وہ اس انکشافِ حقیقت کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ بعد میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَامِنْ مُسْلِمٍ یَّمُوْتُ لَہٗ ثَلَاثَۃٌ مِّنَ الْوَلَدِ لَمْ یَبْلُغُوا الْحِنْثَ اِلَّا اَدْخَلَہُ اللّٰہُ تَعَالَی الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہٖ اِیَّاھُمْ کہ کوئی ایسا مسلمان نہیں کہ جس کے تین بیٹے مرے ہوں اور وہ ایسی عمر کو ابھی