تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 308
سے ہو جائے گا۔پنجاب کے بار کے علاقہ میں چلے جائو تمہیں جگہ جگہ یہ سنائی دے گا کہ فلاں نئی آبادی ہے اور فلاں جانگلیوں کا گائوں ہے اور جانگلی کے معنے وحشی کے ہی ہیں۔گویا وہ ادنیٰ یاوحشی اقوام جو پہلے الگ رہا کرتی تھیں اب متمدن لوگوں میں بالکل مل گئی ہیں۔پہاڑی لوگوں کو بھی وحشی سمجھا جاتا تھا مگر اب ہر جگہ پہاڑوں پر سیر گاہیں بن گئی ہیںجن کی وجہ سے دنیا کے اکثر مالدار لوگ گرمی کا موسم پہاڑوں پر گزارتے ہیں اور اس طرح پہاڑی لوگوں کا تعلق بھی متمدن لوگوں سے ہو گیا ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہم نور پورؔآرہے تھے جو پٹھانکوٹ سے پندرہ میل کے فاصلہ پر ہے۔مولوی یار محمد صاحب مرحوم وکیل ہمارے ساتھ تھے ہم نے دیکھا کہ پگڈنڈی پر ایک عورت کھڑی ہے چونکہ ہم نے بھی اسی پگڈنڈی پر سے گزرنا تھا اِس لئے مولوی یار محمد صاحب نے اس عورت سے کہا کہ مائی ذرا ایک طرف ہو جائو۔اُس نے یہ سُنتے ہی شور مچانا اور گالیاں دینا شروع کر دیا کہ میری ہتک کر دی گئی ہے۔مولوی صاحب حیران تھے کہ میں نے اس کی کیا ہتک کی ہے اور ہم بھی حیرت زدہ تھے کہ یہ بات کیا ہوئی۔مگر وہ برابر شور مچاتی اور گالیاں دیتی چلی گئی۔آخر مولوی صاحب نے اس کی منتیں کیں کہ خدا کے لئے مجھے معاف کر دیا جائے اور کہا کہ ہمارے ہاں مائی کا لفظ عزت کےطور پر استعمال کیا جاتا ہے۔اِسی لئے میں نے یہ لفظ استعمال کیا تھا میری غرض تمہاری ہتک کرنا نہیں تھی۔مگر وہ کہتی جاتی تھی کہ تم نے تومجھے اپنے باپ کی بیوی بنا دیا ہے۔اس وقت ہمیں معلوم ہوا کہ مائی کے معنے وہ عورت کیا سمجھتی تھی اور کیوں اُس نے گالیاں دیں اور شور مچایا۔کچھ عرصہ گزرا کہ مجھے ڈلہوزی آتے ہوئے معلوم ہواکہ ہماری موٹر کا ڈرائیور نور پور کا ہے مَیں نے ڈرائیور کو راستہ میں یہ لطیفہ سُنا یا۔وہ سُن کر کہنے لگا یہ بُہت پرانے زمانہ کی بات ہے اب عورتوں کو بے شک مائی کہہ کر دیکھ لیں انہیںبُرا محسوس نہیں ہو گا کیوں کہ اب پنجابی اُن سے ملنے لگ گئے ہیں اور وہ سب سمجھتی ہیں کہ مائی کے کیا معنے ہوتے ہیں مگر آج سے چالیس سال پہلے یہ کیفیت تھی کہ پندرہ بیس منٹ تک مولوی صاحب اس کی منّتیں کرتے چلے گئے اور وہ عورت کہتی جاتی تھی کہ تُو نے مجھے اپنے باپ کی بیوی بنا دیا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِذَاالْوُحُوْشُ حُشِرَتْ ایک زمانہ میں ادنیٰ یا وحشی اقوام بھی متمدن لوگوںمیں ملا دی جائیں گی اور عالمگیر سیاسی نظام شروع ہو جائے گا جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنے ہوں گے کہ زمین کا چپّہ چپّہ آباد کر دیا جائے گا۔ادنیٰ اقوام میں بھی بیداری پیدا ہو جائے گی اور اُن میں بھی تعلیم کا چرچا شروع ہو جائے گا چنانچہ ہم دیکھتے ہیں افریقہ کے باشندے پہلے ننگے پھرا کرتے تھے مگر اب وہی لوگ ولایت میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے اور وہاں سے ڈاکٹر یا بیرسٹر وغیرہ بن کر واپس آتے ہیں۔ہماری جماعت کے مبلغ مولوی عبدالرحیم صاحب نیّرؔافریقہ