تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 309
کے حبشیوں کی تصویریں دکھایا کرتے ہیں کہ جب تک احمدی مبلّغ وہاں نہیں پہنچے تھے وہ لوگ ننگے پھرا کرتے تھے مگر اب احمدی مبلّغین کے جانے کے بعد وہ لباس پہننے لگ گئے ہیں۔غرض جس طرح اس زمانہ میں تمام وحشی اقوام کی تربیت ہو رہی ہے اس سے پہلے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔انسان کسی ایک چیز کو اتفاق کہہ سکتا ہے مگر وہ ان سب علامتوں کو جو قرآن کریم نے ایک جا اور ایک زمانہ کے متعلق بیان فرمائی ہیں کس طرح اتفاقی قرار دے گا۔(۳)یہ معنے بھی اس آیت کے ہو سکتے ہیں کہ جو اقوام نزول قرآن کے وقت وحشی سمجھی جاتی تھیں وہ اُبھار دی جائیں گی اور دنیا میں پھیل جائیں گی یعنی یورپ اور امریکہ کا غلبہ ہو گا۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یورپ بالکل وحشی تھا اور یورپ کے اکثر ممالک کے باشندے افریقہ کے حبشیوں کی طرح قریباً ننگے پھرا کرتے تھے۔بلکہ آج سے پانچ چھ سو سال پہلے کی اگرتصویریں دیکھی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت بھی وہ لوگ کھال کا لباس پہنا کرتے تھے۔اُن کے گھٹنوں تک کھال ہوتی تھی۔ہاتھ میں تیر کمان ہوتا تھا اور سر پر عجیب قسم کی ٹوپی ہوتی تھی۔پس وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ جو قومیں نزول قرآن کے وقت وحشی سمجھی جاتی تھیں اُن کو اُبھار دیا جائے گا۔وہ اجتماع اور طاقت اپنے اندر پیدا کر لیں گی اور دنیا میں پھیلا دی جائیں گی (۴)یا یہ کہ ایسی قوموں کی حکومت ہو جائے گی جو بے دین ہو جائیں گی کیونکہ انس وہ ہے جس میں دین ہو اور وحشی وہ ہے جس میں دین نہ ہو پس وَاِذَاالْوُحُوْشُ حُشِرَتْ کے ایک یہ معنے ہوں گے کہ بے دین حکومتیں قائم ہو جائیں گی جیسے رُوس میں یا اَور بعض دُوسرے ممالک میں ایسی حکومتیں قائم ہیں جن کو دین سے کوئی مس ہی نہیں۔گویا دہریہ قوموں کے حاکم ہو جانے کے متعلق ان میں پیشگوئی پائی جاتی ہے۔(۵)اس آیت کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ بد اخلاقی عام طور پر پھیل جائے گی اور دین دار لوگ دب جائیں گے۔(۶)اس آیت کے ایک یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ وحشی اقوام کو اُن کے علاقوں سے نکال دیا جائے گا جیسا کہ افریقہ میں ہو رہا ہے۔کینیا کالونی میں چلے جائو۔یوگنڈا میں چلے جائو۔ہر جگہ یہی نظارہ نظر آئے گا۔انگریز وہاں گئے اور انہوں نے اصل باشندوں کو نوٹس دے دیا کہ یا تو اس زمین کو سنبھالو اور یا اس میں سے نکل جائو۔وہاں ایک ایک شخص کی پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ میل پرریاست ہوتی تھی مگر یوروپین قوموں نے جاتے ہی اُن سب کو اپنی زمینوںاور جائدادوں سے بے دخل کر دیا اور خود اُن پر قبضہ کر لیا۔چنانچہ افریقہ میں بعض انگریزوں کے پاس ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ ایکڑ زمین ہے۔اور گو انگریز بھی اس زمین کو بسا نہیں رہے مگر جب یہ وہاں گئے تو انہوں نے تمام لوگوں کو نوٹس دے دیا کہ اپنی اپنی زمین کو سنبھالو یا اسے چھوڑ دو۔اب ایک شخص اتنی بڑی زمین کہاں سنبھال سکتا تھا نتیجہ یہ