تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 27

آیت جَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا سے بعث بعد الموت پر ثبوت میں نے بتایا تھا کہ اس سورۃ میں تین مضامین کا ذکر ہو رہا ہے قیامت کا۔غلبۂ قرآن کا اور غلبۂ اسلام کا۔پس اگر یہاں بعث بعدالموت مراد ہو تو اس صورت میں وَجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا کا مفہوم یہ ہو گا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے رات کو تمہارے نقائص دور کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔تمہاری روح میں یہ قابلیت نہیں تھی کہ وہ ہمیشہ نھارسے فائدہ حاصل کر سکتی بلکہ ضروری تھا کہ اُس پر رات بھی آتی تاکہ دن سے فائدہ اُٹھانے کے لئے اُس میں نئی طاقتیں پیدا ہو جاتیں یہی تمہارا روحانی حال ہے جس طرح خدا نے تمہارے لئے رات کو لباس اور نیند کو سُبَات بنایا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے دنیا کی پیدائش کا سلسلہ جو لَیْلاور سُبَات کا قائم مقام ہے اس لئے جاری کیا ہے تاکہ تم اس جہان میں رہ کر اپنے اند ر وہ نئی طاقتیں پیدا کرو جن سے اگلے جہان میں تمہیں رؤیت الٰہی نصیب ہو سکے پس جس طرح لیل کا نہار سے پہلے آنا ضرور ی ہے اسی طرح تمہاری ترقی کے لئے ایک اور عالم کا ہونا بھی ضروری ہے تم اس جہان میں رہ کر اپنے اندر وہ قابلیتیں پیدا کرو تاکہ اگلے جہان میں رؤیت الٰہی سے حصہ لے سکو۔اور اگرقرآن یا اسلام کا غلبہ مراد ہو تو اس صورت میں مذکورہ بالا آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ تمہاری قوم سو رہی تھی مگر اللہ تعالیٰ اسی لَیْل میں تمہارے اندر نئی قوتیں پیدا کر رہا تھا۔جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کلام نازل ہوتا ہے اُسی قوم میں نازل ہوتا ہے جو مردہ اور ذلیل ہو چکی ہوتی ہے تاکہ وہ اُس کلام کے ذریعہ نئی طاقتیں لے کر کھڑی ہو جائے اور دنیا پر غالب آجائے۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی خدا تعالیٰ کا کلام کسی قوم میں نازل ہوتا ہے اُس کی قوتوں میں نشوونما پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور آخر ایک دن وہ قوم اُن قوتوں سے کام لے کر دنیا میں پھیل جاتی ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ کو دیکھ لو۔عرب صدیوں سے ذلیل اور مردہ چلے آرہے تھے اُن کادنیا میں کہیں غلبہ نہ تھا۔اُن کی ترقی کے کوئی آثار نہ تھے۔وہ دنیا سے الگ ایک گوشہ ٔ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے۔جب اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوا تو بے شک وہ قرآن کریم کی مخالفت کرتے تھے۔وہ اسلام کو مٹانے کی کوششیں کرتے تھے مگر ساتھ ہی اُن کے دلوں میں یہ حسرت بھی موجود تھی کہ ہر قوم نے ترقی کی۔ہر قوم نے عروج حاصل کیاہر قوم نے غلبہ پایا مگر ہمیں کوئی ترقی حاصل نہیں ہوئی۔پس اُن کے دلوں میں ترقی کی تڑپ پائی جاتی تھی۔وہ چاہتے تھے کہ غلبہ حاصل کریں اور ان کی ذاتی خواہش تھی کہ ہماری قوم کو بھی عزت ملنی چاہیے اور اسے بھی دنیا میں غلبہ حاصل ہونا چاہیے اور اس خواہش نے اسلام لانے پر انہیں ترقی میں بڑی مدد دی۔پس جب بھی کلام الٰہی نازل ہوتا ہے اسی قوم میں نازل ہوتا ہے جو مدتوں سے مرد ہ ہوتی ہے۔اس زمانہ میںبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام