تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 28

کو اللہ تعالیٰ نے ہندوستان میں مبعوث فرمایا جہاں کے رہنے والے مدتوں سے غلا می کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور جن کے دلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ ہم بھی بڑھیں اور ترقی کریں۔اور گو وہ لوگ احمدیت کی مخالفت کرتے ہیں جس طرح عرب کے رہنے والے اسلا م کی مخالفت کیا کرتے تھے مگر جس دن اُن کو پتہ لگا کہ احمدیت ہی اُن کی ترقی کا ذریعہ ہے اُسی دن اُن کے اندر بیداری پیدا ہو جائے گی اور وہ اس غرض کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے پر تیار ہو جائیں گے۔وَجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ درحقیقت زندگی کا ثبوت صرف دن سے ہی ملتا ہے رات سے نہیں ملتا۔یہاں ایک عجیب لفظی لطیفہ ہے۔انسان عام طور پر راحت اور آرام کے سامانوں میں اپنی زندگی بسر کرنا ہی عیش سمجھتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس کو تم عیش سمجھتے ہووہ عیش نہیں بلکہ ایک نیند ہے جوتم پر مسلّط ہوتی ہے۔تم سمجھتے ہو کہ کھانا پینا سیر وسیاحت کرنا۔راحت و آرام کے سامانوں میں چکرلگانا انسان کے لئے عیش ہوتا ہے حالانکہ عیش کا زمانہ صر ف نبی کا زمانہ ہوتا ہے جب حقیقی کام کا وقت ہوتا ہے اور جب حقیقی عزت حاصل کرنے کا موقع ہوتا ہے۔کھانا پینا اور مادی راحت و آرام کے سامانوں سے لطف اُٹھانا یہ عیش نہیں بلکہ سونا ہے۔گویا جس کو تم عیش کہتے ہو وہ تمہارے سونے کا زمانہ ہے اور جس کو تم تکلیف کا زمانہ کہتے ہو وہ حقیقی معنوں میں عیش کا زمانہ ہے جس طرح دن کو انسان چلتا پھرتا ہے اور رات کو آرام کرتا ہے اسی طرح کام کا وقت عیش کا وقت کہلاتا ہے اور آرام کا وقت لیل کا وقت کہلاتا ہے دنیا میں جس چیز کو عیش سمجھا جاتا ہے وہ سکون کا زمانہ ہوتا ہے۔اور جس چیز کو تکلیف سمجھا جاتا ہے وہ کام کا زمانہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ عجیب بات ہے کہ تم سکون والی چیز کا نام عیش رکھتے ہو حالانکہ عیش کا زمانہ وہ ہے جس میں انسانی طاقتیں متحرک ہوں اور اس کے لئے لَیْل کا وقت نہیں بلکہ نہار کا وقت مقرر ہے اور درحقیقت و ہی زمانہ عیش کا ہو تا ہے جب قوم میں قربانی کی روح پائی جاتی ہو۔جب اُس کے تمام افراد میں بیداری نظر آتی ہو۔جب اُس کے ہر فرد میں یہ احساس پایا جاتا ہو کہ جان کو قربان کر دینا اور مال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں لٹا دینا ہی کلید کامیابی ہے۔کیونکہ زندگی حرکت کا نام ہے سکون کا نام نہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس کو تم عیش کہتے ہو وہ سکون ہے اور تباہی کی علامت۔اور جس کو تم تکلیف کا وقت کہتے ہو وہی عیش ہے۔تم سکون والی زندگی کو عیش کی زندگی قرار دیتے ہو حالانکہ وہ عیش نہیں بلکہ ایک نیند ہے جو تم پر طاری ہوتی ہے اس کے مقابلہ میں جس چیز کو تم عیش قرار دینے کے لئے تیا ر نہیں وہی حقیقی معنوں میں عیش ہے۔گویا ان الفاظ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی ایک غلطی کا ازالہ کیا کہ عیش نام ہے حرکت کا جیسے انسان دن میں حرکت کرتا ہے۔مگر تم عدمِ حرکت کا نام عیش رکھتے ہو