تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 296

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ۰۰۳ اور جب ستارے دُھندلے ہو جائیں گے۔حَلّ لُغَات۔اَلنَّجُوْمُ اَلنَّجُوْمُ: اَلنَّجْمُ کی جمع ہے اور اَلنَّجْمُ کے معنے ہیں (۱)اَلْکَوْکَبُ۔ستارہ (۲)اَلنَّبَاتُ عَلٰی غَیْرِ سَاقٍ وَھُوَ خِلَافُ الشَّجَرِ بے جڑ والی بوٹی جس کو ہمارے ملک میں بیل کہتے ہیں (۳)اَلْاَصْلُ کسی چیز کی جڑ۔کہتے ہیں ھُوَمِنْ نَجْمِ صِدْقٍ۔وہ سچائی کی جڑ سے ہے یعنی اس کی بات سچی ہوتی ہے یا وہ اعلیٰ خاندان سے ہے۔نیز کہتے ہیں لَیْسَ لِھٰذا الْحَدِیْثِ نَجْمٌ اَیْ اَصْلٌ۔اس بات کی کوئی جڑنہیں یعنی حقیقت نہیں۔نَـجْمٌ کی جمع اَنْـجُمٌ وَ اَنْـجَامٌ وَ نُـجُوْمٌ وَ نُـجُمٌ آتی ہے (اقرب) اِنْکَدَرَتْ اِنْکَدَرَتْ اِنْکَدَرَ سے مؤنث کا صیغہ ہے (جو کَـدَرَ سے بنا ہے) اور اِنْکَدَرَ فِیْ سَیْرِہٖ کے معنے ہوتے ہیں اَسْرَعَ وَانْقَضَّ۔اس نے جلدی جلدی حرکت کی اور گر گیا۔کہتے ہیں اِنْکَدَرَ یَعْدُوْا اور مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ تیزی سے دوڑا اور جب اِنْکَدَرَ عَلَیْہِ الْقَوْمُ کہیںتو معنے ہوتے ہیں اِنْصَبُّوْا۔لوگ اس پر جا پڑے۔اور اِنْکَدَرَتِ النُّجُوْمُ کے معنے ہوتے ہیں تَنَاثَـرَتْ ستارے جھڑ گئے (اقرب) اور کَدَرَ(یَکْدُرُ) یا کَدِرَ (یَکْدَرُ جو اِنْکَدَرَ کا اصل ہے) کَدَرَا وَکَدَارَۃً وَکُدُوْرًا وَکُدُوْرَۃً وَکُدْرَۃً۔صَفَا کے مقابل کے الفاظ ہوتے ہیں یعنی وہ گدلا ہو گیا (اقرب) جیسے ہمارے ملک میں بھی کہتے ہیں کہ طبیعت مکدّر ہو گئی یا خراب ہو گئی پس ان معنوں کے اعتبار سے وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ کے معنے ہوں گے۔جب ستارے گدلے ہو جائیں گے۔اور نجوم سے مجازی طور پر وہ وجود لئے جائیں گے جن سے دنیا کو ہدایت مل رہی تھی اور جو لوگوں کے لئے راہنمائی کا مؤجب ہو رہے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب کہ یہ نجوم گدلے ہو جائیں گے یعنی اُن کا سلسلۂ فیوض جاتا رہے گااور لوگ اُن سے ہدایت پانا بند کر دیں گے۔تفسیر۔النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ سے مراد صحابہ کی اتباع کا مفقود ہو جانا رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اَصْحَابِیْ کَالنَّجُوْم بِاَیِّھُمُ اقْتَدَیْتُمْ اِھْتَدَیْتُمْ (تشیید المبانی حدیث نمبر ۵۹) میرے صحابہؓ ستارو ں کی طرح ہیں بِاَیِّھُمُ اقْتَدَیْتُمْ اِھْتَدَیْتُمْ تم جس کے پیچھے بھی چلو گے ہدایت پاجائو گے۔جب شمس سے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا وجود مراد لیا گیا ہے تو نجوم سے مراد آپ کے صحابہؓ ہوئے۔پس وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ کے یہ معنے ہوئے کہ نہ صرف رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع مفقود ہو جائے گی بلکہ صحابہ کی اتباع بھی جاتی رہے