تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 295
ہوتا ہے کہ قرآن کو راویوں کے خیالات کے تابع کر دیں اور یہ دونوں صورتیں ایسی ہیں جن سے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا نور دنیا پر ظاہر نہیں ہو سکتا۔بہرحال اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْکے دو معنے ہیں (۱)اتباع محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو ترک کر دیا جائے گا۔اور لوگ اپنی اپنی رائے پر عمل کرنے لگیں گے۔اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْسے مراد انوار محمدیہ کے نزول کا بند ہو جا نا (۲)یا یہ کہ انوار محمدؐیہ کا نزول بند ہو جائے گا اور مسلمان جن کا کام یہ تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلائیں وہ آپ کے نور کو ظاہر کرنے کی بجائے اس کو کم کرنے کا موجب ہوں گے۔اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْمیں سورج گرہن کی پیشگوئی چونکہ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ کے ایک معنے روشنی کے مٹ جانے کے بھی ہیں اس لئے اس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیںکہ جب سورج اندھیر ہو جائے گا یعنی اُسے گرہن لگے گا۔یہ وہی پیشگوئی ہے جس کا حدیثو ں میں بھی ذکر آتا ہے کہ اِنَّ لِمَھْدِیِّنَا اٰیَتَیْنِ لَمْ تَکُوْنَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ تَنْکَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْکَسِفُ الشَّمْسُ فِیْ النِّصْفِ مِنْہُ (دارقطنی کتاب العیدین باب صفة صلاة الخسوف و الکسوف و ھیئتھما) یعنے ہمارے مہدی کے دو نشان ہیں۔جب سے آسمان و زمین پیدا ہوئے ہیں کسی شخص کے زمانہ میں وہ نشان ظاہر نہیں ہوئے یعنی چاند گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات کو رمضان میں چاند گرہن لگے گا اور سورج گرہن کی تاریخوں میں سے درمیانی تاریخ کو اسی رمضان میں سورج گرہن لگے گا۔گو اس سورۃ میں خالی سورج کا لفظ آتا ہے مگر حدیثوں میں سورج اور چاند دونوں کا ذکر ہے۔اس کے متعلق یہ امر سمجھ لینا چاہیے کہ یہ قرآن کا محاورہ ہے اور عربی زبان کا بھی۔کہ جو چیزیں آپس میں لازم ملزوم ہوں ان میں سے بعض دفعہ ایک چیز کا ذکر کر دیا جاتا ہے اور دوسری کا ذکر حذف کر دیا جاتا ہے۔چونکہ ایک اور جگہ اس پیشگوئی کے ضمن میں سور ج اور چاند دونوں کا اکٹھا ذکر آتا ہے (دیکھو سورۃ قیامۃ) اس لئے یہاں صرف سورج کا ذکر کر دیا اور چاند کا ذکر چھوڑ دیاکیونکہ چاند سورج کے تابع ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے گرمی سردی کا اکٹھا ذکر کرنا ہو تو بعض دفعہ سردی کا ذکر کر دیا جاتا ہے اور مراد یہ ہوتی ہے کہ گرمی کا ذکر اس کے ساتھ ہی سمجھنا چاہیے یا گرمی کا ذکر کر دیا جاتا ہے اور سردی کا ذکر اس کے ساتھ ہی سمجھا جاتا ہے۔اس جگہ چونکہ پیشگوئی کے ایک حصہ کو بیان کر دیا گیا ہے اس لئے دوسرے حصہ کی طرف خود بخود اشارہ ہو گیا اور یہ ضرورت نہ رہی کہ اس کابھی نام لے کر ذکر کیا جاتا۔