تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 297
گی اور اُن کے بتائے ہوئے علوم متروک ہو جائیں گے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں اس زمانہ میں ایسا ہی نظارہ نظر آ رہا ہے لوگ جب بھی کوئی مثال پیش کریں گے بجائے اس کے کہ صحابہؓ کا ذکر کریں وہ کہیں گے ہٹلر نے یوں کہا ہے یا نپولین نے یوں کہا ہے یا ابراہیم لنکن نے یوں کہا ہے۔لیکن پُرانے زمانہ میں لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ ابو بکرؓ نے یوں کہا ہے۔عمرؓ نے یوں کہا ہے۔عثمان ؓنے یوں کہا ہے۔علیؓ نے یوں کہا ہے۔غرض مسلمانوں میں صحابہ کے نقش قدم پر چلنے کی اہمیت بالکل جاتی رہی ہے۔انگریزی میں کہتے ہیں کہ کسی قوم کی زندگی اس کی ٹریڈیشن TRADITIONپر چلتی ہے یعنی قوم کا ہر فرد جب تک اپنے دل میں یہ احساس نہ رکھتا ہو کہ اُس نے اپنی قومی روایات کو زندہ رکھنا ہے اس وقت تک قوم کی زندگی کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔زندہ قوموں کا یہی دستور ہے کہ اُن کا ہر فرد اپنے باپ دادا کے نیک افعال کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے باپ نے یوں کیا تھامیرا دادا اس طرح کیا کرتا تھا۔جب تک قوم اس روح کو اپنے اندر محفوظ رکھتی ہے اس کی زندگی کی گھڑیاں لمبی ہوتی چلی جاتی ہیں اور جب یہ رُوح مر جاتی ہے تو قوم بھی اس کے ساتھ ہی مر جاتی ہے۔پس وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْکے یہ معنے ہوئے کہ صحابہؓ کی خوبیاںاور اُن کے کمالات عمل کے لحاظ سے مٹ جائیں گے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ قومی ٹریڈیشن TRADITION یعنی قومی برتری کی روایات بھی قوم کے حافظہ سے جاتی رہیں گی اور وہ روایات زندہ نہیں رہیں گی جن سے اخلاق ترقی کرتے اور امنگوں میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔جب قوم کے افراد کے سامنے بار بار یہ بات آتی رہے کہ ہمارے باپ دادا اپنے اندر بہت بڑی خوبیاں اور کمالات رکھتے تھے تو وہ خود بھی ترقی کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اگر انہیں کہا جائے کہ تمہارے باپ دادا بالکل نالائق تھے۔انہیں ترقی سے کوئی لگائو نہیں تھا تو آگے بڑھنے کی قابلیت اُن میں مفقود ہو جاتی ہے۔اسلام اور مسلمانوں پر سب سے بڑی تباہی اسی وجہ سے آئی ہے کہ اُن کی شاندار قومی روایات طاقِ نسیان پر رکھ دی گئی ہیں اور ماضی سے اُن کا تعلق مٹ گیا ہے۔اور صحابہؓ اور اُن کے نقشِ قدم پر چلنے والے لیڈروں کی خوبیاں مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل ہو گئیں۔اس ٹریڈیشن کے تباہ کرنے میں یوروپین لوگوں کی لکھی ہوئی تاریخوں نے خصوصیت سے حصہ لیا ہے۔کوئی مسلمان بادشاہ ایسا نہیں جس پر انہوں نے الزام نہ لگایا ہو اور اُسے بُری سے بُری اور بھیانک سے بھیانک صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر مسلمان طالب علم جو اُن تاریخوں کو پڑھتا ہے یہ سمجھنا شروع کر دیتا ہے کہ اس کے آباء میں کوئی خوبی نہ تھی وہ ہر خوبی دوسروں کی طرف منسوب کرتا اور ہر نقص اپنے بزرگوں کی طرف منسوب کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس طرح قومی ترقی کی جڑ کھوکھلی ہو کر رہ جاتی ہے کیونکہ بغیر ٹریڈیشن کے۔بغیر قومی روایات کو زندہ رکھنے