تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 287

کہ ان سورتوں میں غلبۂ اسلام اور قیامتِ کُبریٰ کا ذکر تھا اور اسلام کا غلبہ کم سے کم دو دفعہ مقدر تھا جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دو دفعہ مقدر تھی پس وہ قیامت جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قائم ہوئی تھی اس کے دو بڑے مظہر تھے جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور سورۂ جمعہ میں اس کا ذکر آتا ہے پس ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ قیامت آئی تھی اور ایک دفعہ تیرہ سو سال کے بعد یعنی آپ کے دَورِ اوّل پر ایک ہزار سال تنزّل کا زمانہ گزر جانے کے بعد آنی مقدّر تھی۔مصلح موعود کی پیشگوئی قرآنی آیت کی مصدق قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اسلام پر تنزّل کا بھی ایک دَور آنے والا تھا جیسا کہ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ(السجدة:۶) سے ظاہر ہوتا ہے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ امر اسلام کو آسمان سے زمین پر نازل فرمائے گا پھر ایک ہزار سال کے عرصہ میں وہ واپس اللہ تعالیٰ کی طرف چلا جائے گا چونکہ احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ترقی کا زمانہ تین قرن کا ہے (بخاری کتاب الرقاق باب ما یحذر من زھرة الدنیا)اس لئے ہزار سال تنزّل کے مل کر تنزّل کا زمانہ ۱۳۰۰ہجری پر ختم ہوتا ہے یا اندازًا ۱۸۸۶؁ء کو۔٭ پس جب پہلے یہ بات بتائی کہ اسلام کا غلبہ ہو گا اور پھر اس پر ایک تنزّل کا زمانہ آئے گا تو ضروری تھا کہ یہ بھی بتایا جاتا کہ اس تنزل کے بعد کیا ہو گا تا کہ مسلمان دلبرداشتہ نہ ہو جا ئیں اور ہمت ہار کر نہ بیٹھ جائیں۔حدیثوں میں آتا ہے ابویا سر بن اخطب جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک مشہور یہودی عالم تھا ایک دن کچھ اور یہود سمیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا جب کہ آپ سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات الٓمّٓ۔ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ١ۛۖۚ فِيْهِ پڑھ رہے تھے وہ یہ سُن کر اپنے بھائی حُیّی بن اخطب کے پاس گیا اور اُسے کہا کہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو الٓمّٓ۔ذٰلِكَ الْكِتٰبُ پڑھتے سُنا ہے۔وہ کہنے لگا کیا تم سچ کہتے ہو؟ اُس نے کہا ہاں۔اس ٭ حاشیہ: ۱۸۸۶؁ ء اس طور پر بنتا ہے کہ ۱۳۰۰ ہجری سالوں کو شمسی سالوں میں تبدیل کیا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت ۶۳۲؁ء میں ہوئی اور ۱۳۰۰ ہجری سالوں کے شمسی سال ۱۲۶۲ بنتے ہیں۔جب ان دونوں کو ملایا جائے تو ۱۸۸۶ ہوتے ہیں یا کسروں کو نکال دیا جائے تو ۱۸۸۵ اور ۱۸۸۶؁ء ہی وہ سال تھا کہ جب بانی سلسلہ احمدیہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کی فتح کا علم دیا گیا اور آپ کے ذریعے سے ایک سلسلہ کی جو اسالم کی بنیاد کو مضبوط کرنے والا ہوگا خبر دی گئی اور یہ اطلاع دی گئی ہ آپ کی نسل سے ایک ایسا لڑکا بھی پیدا ہوگا جس کے ذریعے سے اسلام کی شہرت دنیا کے کناروں تک پہنچے گی اور وہ لڑکا اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق یہ راقم السطور ہی ہے جس کی خبر ۱۸۸۶؁ء کے شروع ہی میں دی گئی جو قرآنی پیشگوئی کی مصدق اور اس کو پورا کرنے والی ہے۔وَاللہُ غَنِیٌّ لَا یُسْئَلُ عَنْہُ وَ ھُمْ یُسْئَلُوْنَ۔