تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 288

پر حُیّیِ کچھ اور لوگوں کو ساتھ لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس پہنچا اور کہا کہ کیا درست ہے کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا کلام نازل ہوا ہے جس میں الٓمّٓ۔ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ١ۛۖۚ فِيْهِ آتا ہے؟ آپ نے فرمایا۔ہاں۔وہ کہنے لگا تو پھر ڈر کی کوئی بات نہیں اگر آپ کا غلبہ بھی ہوا تو کل اکتّرسال رہے گا کیونکہ علم ابجد کے لحاظ سے الفؔ کا ایک لامؔ کے تیس اور میم کے چالیس عدد ہیں کل ۷۱ سال ہوئے۔یہ ۷۱ سال ہم کسی نہ کسی طرح کاٹ لیں گے اس کے بعد آپ کا غلبہ نہیں رہ سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اَلٓمّٓصٓ بھی الہام ہوا ہے وہ کہنے لگا تو خیر ابجد کے لحاظ سے الفؔ کا ایک لامؔ کے تیس میمؔ کے چالیس اور صؔ کے نوّے کل ایک سو اکاسٹھ سال ہوئے یہ مدت پہلے سے زیادہ ہے مگر خیر کوئی زیادہ لمبا عرصہ نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اَلٓرٰ بھی الہام ہوا ہے کہنے لگا تو پھر دو سَو اکتیس سال بن گئے کیونکہ الفؔ کا ایک لامؔ کے تیس اور راءؔ کے دو سو۔آپ نے فرمایا اَور سُن لو مجھ پر اَلٓمّٓرٰ بھی الہام ہوا ہے۔تب اس نے کہا کہ یہ تو پہلے سے بھی گراں اور لمبا عرصہ ہے۔الفؔ کا ایک لامؔ کے تیس میمؔ کے چالیسؔ اور راءؔ کے دو سَو ہوتے ہیں کل دو سَو اکہتر سال کا عرصہ ہوا۔پھر اپنے ساتھیوں کو کہنے لگا یہاں سے چلو یہ معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے۔(فتح البیان زیر آیت الم ذالک الکتاب ) آنحضرت صلعم کی زبان سے اسلام کے تنزل کے بعد اس کے عروج کی پیشگوئی تو تنزّل کی پیشگوئیوں کو سُن کر دشمن بعض دفعہ یہ خیال کر لیتا ہے کہ اگر اس مذہب پر تنزّل ایک دن آنے ہی والا ہے تو کسی طرح درمیانی زمانہ کو ہم برداشت کر لیں گے آخر وقت آئے گا کہ یہ زمانہ گزر جائے گا اور پھر ہمارے غلبہ کے ایام آجائیں گے۔اسی لئے نبی کبھی تباہی کی خبر پر اپنے زمانہ کو ختم نہیںکرتا بلکہ وہ ساتھ ہی یہ خبر بھی دیتا ہے کہ میرے بعد ایک اور نبی آنے والا ہے جو تنزّل کے بعد پھر ترقی اور ـغلبہ کا دروازہ قوم کے لئے کھول دے گا یوں تو ہمیشہ سے یہ قانون چلا آیا ہے کہ ترقی کے ساتھ ہی تنزل کا دور بھی وابستہ ہوتاہے لیکن نبی کبھی تنزل کے زمانہ کی خبر دینے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہ اس کے ساتھ ہی ایک نئے دَور کی بھی بشارت دیتا ہے اور اس طرح بتاتا ہے کہ گو میں مر جائوں گا مگر یہ سلسلہ کبھی مٹ نہیں سکتا۔اگر درمیان میں عارضی طور پر کوئی تنزل کا زمانہ بھی آیا تو پھر کفر پر دین کے غلبہ کے ایام آجائیں گے۔اس طرح کفر کو اپنی ترقی سے ہمیشہ مایوس رکھا جاتا ہے اور مومنوں کے دلوں کو تسلی دی جاتی ہے کہ وہ مایوس مت ہوں بلکہ اپنی ہمت کو مضبوط رکھیں۔اپنے ارادوں کو بلند کریں اور اپنی نگاہ کو اونچا رکھیںکہ اسلام پھر غالب آئے گا اور کفر پھر تباہی و بربادی کے گڑھے میں گر ے گا۔یہی فرق خدائی کلام اور ایک غیر کے کلام میں ہوتا ہے۔بھلا کوئی غیر یہ طاقت رکھ سکتا ہے کہ وہ غیر متناہی ترقیات کی خبر دے سکے۔خدا ہی ہے جو غیب کا علم رکھتا ہے اور پھر ساتھ ہی