تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 286

الشعر) یعنی قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک کہ تم اس قوم سے جنگ نہ کرو کہ ان کی جوتیاں بالوں والی ہوں گی۔اور ان کے منہ ڈھالوں کی طرح چپٹے ہوں گے یہ ترکوں کے حملوں کی طرف اشارہ ہے اور مراد یہ ہے کہ اسلامی تنزّل کا زمانہ ترکوں کے حملوں سے شروع ہو گا۔اسی طرح حدیث میں ہے کہ بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنَ یَعْنِی اِصْبَعَیْنِ (بخاری کتاب الرقاق باب قول النبی بعثت اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ) یعنی آپ نے اپنی دو انگلیوں کو جوڑ کر دکھایا اور فرمایا میرا اور قیامت کا زمانہ اسی طرح ساتھ ملا ہوا ہے۔یہ امر ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ پر تو تیرہ سو سال ہو گئے اور اب تک قیامت نہیں آئی۔پس اس جگہ قیامت کے معنے کچھ اور ہیں اور وہ معنے اسلام کی ترقی کے ہیں اور آپ کا ارشاد یہ ہے کہ بعض نبی ایسے آئے ہیں کہ اُن کی قوم نے اُن کے مرنے کے بہت بعد جا کر ترقی کی ہے مگر مجھ سے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ میرے زمانہ میں ہی اسلام کی ترقی ہو جائے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اسی طرح ترمذی میں ہے اِقْتِرَابُ السَّاعَۃِ ھَلَاکُ الْعَرَبِ (جامع الترمذی کتاب المناقب باب فضل العرب) یعنی قیامت کے قریب آنے کے ایک معنے عربوں کی ہلاکت کے ہیں چنانچہ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ کے میں نے یہی معنے کئے ہیں۔خلاصہ یہ کہ قرآن کریم اور احادیث میں لفظِ قیامت کے معنے قیامتِ کُبریٰ کے بھی ہیں یعنی اس قیامت کے جو تمام انسانوں کی ہلاکت سے یا اُن کے دوبارہ اُٹھنے سے ظاہر ہو گی اور اس کے معنے کسی قومی ترقی کے بھی ہیں اور کسی قوم کے تنزّل کے بھی اور کسی فرد کی موت کے بھی۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ جو شخص یوم القیامۃ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے وہ ان سورتوں کو پڑھ لے اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہو سکتا کہ ان سورتوں میں صرف اسی قیامت کا ذکر ہے جو مرنے کے بعد آنے والی ہے اگر قرآن قیامت کے کئی معنے لے سکتا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس لفظ کو اس کے متعدد معانی میں استعمال فرما سکتے ہیں بہرحال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس قیامت کا اِن سورتوں میں ذکر آتا ہے اس قیامت کا ایک تفصیلی نقشہ ان میں کھینچ دیا گیا ہے۔ایسا تفصیلی کہ اس کو دیکھنے کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے گویا یوم القیامۃ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے چنانچہ بعد میں اس سورۃ کی جو تفصیل کی جائے گی اس سے معلوم ہو گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا وہ بالکل درست ہے۔سورۂ تکویر کا سورۂ عبس اور پہلی سورتوں سے تعلق اس سورۃ کا تعلق پہلی سورۃ بلکہ پہلی سورتوں سے یہ ہے