تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 268

مرنے کے بعد بھی تم کسی عزت کے قائل ہو اور تمہارا یہ فعل اس بات پر گواہ ہے کہ زندگی موت پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗ ایک اور حیات انسان کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔اور وہ جب چاہے گا انسان کو زندہ کر دے گا۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ تم اور تو ساری باتیں مانتے چلے آتے ہو مگر یہاں آکر انکار کر دیتے ہو۔گویا تم تسلیم کرتے ہو کہ انسان کی پیدائش بغیر کسی حکمت کے نہیں ہوئی۔اس کا ادنیٰ حالت سے ترقی کر کے اعلیٰ درجہ تک کی حالت تک پہنچنا۔اس کے اندر ترقی کی وسیع قابلیتوں کا رکھا جانا۔اس کے سامنے ترقیات کا ایک وسیع میدان ہونا اور پھر اُن ترقیات کے مطابق انسانی قوتوں کا اُبھر آنا اور پھر عادت کے ذریعہ اس کے اندر بشاشت کا پیدا ہونا اور پھر جب وہ مر جائے تو تمہارا اپنے مردہ کی لاش کا احترام کرنا یہ سب امور اس بات کی ایک کھلی دلیل ہیں کہ مرنے کے بعد بھی کوئی زندگی ہے۔مگر تمہاری عجیب حالت ہے کہ تم اور تو سب باتوں کو مانتے چلے آتے ہو مگر ان باتوں کا جو طبعی نتیجہ ہے اُس کو تسلیم کرنے سے نشوز کرتے ہو۔كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ۰۰۲۴ (ایسا) ہر گز نہیں (جو تم سمجھتے ہو) (دیکھتے نہیں کہ) ابھی تک جو اسے حکم ملا تھا اُس نے اُسے پورا نہیں کیا۔تفسیر۔کَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ سے مراد فرماتا ہے کَلَّا ہر گز نہیں لَمَّا یَقْضِ مَآاَمَرَہٗ اُس نے اب تک وہ کام نہیں کیا جس کا اُسے حکم دیا گیا تھا۔لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ میں اسی طرف اشارہ ہے جس طرف مَایُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰٓی میں اشارہ کیا گیا تھا اور جس کا قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَکْفَرَہٗ میں بھی ذکر تھا۔کہ انسان کے لئے موقع تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھے اور اپنی عاقبت کو سنوار لے مگر اب تک اس نے اپنے اس فرض کو ادا نہیں کیا۔اُس کے لئے روحانی ترقیات حاصل کرنے کا بہت بڑا موقع تھا اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے قرب کا میدان کُھلا تھا مگر افسوس کہ اس نے اپنے اس فرض کو کماحقہٗ اب تک سرانجام نہیں دیا۔یہی وہ چیز ہے جس پر میںآج کل بار بار زور دے رہا ہوں اور جماعت کو توجہ دلا رہا ہوں کہ وہ آئندہ نسلوں تک اِس امانتِ روحانی کو پہنچانے کے لئے اس قدر تن دہی اور اس قدر جانکاہی سے کام لے کہ شیطان ہمیشہ کے لئے مایوس ہو جائے اور کفر کے غلبہ کا دنیا میں کوئی امکان نہ رہے۔آج تک کسی اُمت نے بھی اپنی نسل کو شیطانی حملوں سے محفوظ رکھنے پر زور نہیں دیا اگر ہماری جماعت اس فرض کو سرانجام دے لے تو یقیناً یہ ایک بے مثال کام ہو گا اور اس کی نظیر اَور کسی اُمّت میں نہیں مل سکے