تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 267
کہ مرنے کے بعد کی زندگی کا تمہارے دلوں میں بھی احساس موجود ہے گو یہ احساس ادنیٰ ہے مگر بہرحال یہ ادنیٰ احساس تمہاری روح کو اس اہم امر کی طرف متوجہ کرنے کے لئے کافی ہے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ تمہارے دلوں میں مردہ کے احترام کا جذبہ پایا جاتا ہے۔تمہارے دلوں میں اس جزبہ کا نمایاں طور پر پایا جانا اور دنیا میں کسی انسان کا بھی اپنے مردہ کی لاش کی ہتک گوارا نہ کر سکنا اس بات کا ثبوت ہے کہ زندگی موت کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتی بلکہ کوئی اور حیات ہے جس کا اس موت سے آغاز ہوتا ہے اور انسان نہیں چاہتا کہ اس زندگی کے کوچہ میں داخل کرتے وقت محض اس خیال سے کہ یہ جسم تو مُردہ ہو چکا ہے اس کی عزت میں کوئی فرق آنے دے۔ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ۰۰۲۳ پھر جب چاہے گا اُسے دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا۔حَلّ لُغَات۔اَنْشَرَاَنْشَرَاللّٰہُ الْمَیِّتَ کے معنے ہوتے ہیں اَحْیَاہَ۔اللہ تعالیٰ نے مردے کو زندہ کیا (اقرب) پس اِذَا شَآءَ اَنْشَرَہٗ کے معنے ہوں گے جب وہ چاہے گا اُسے زندہ کرے گا۔تفسیر۔فرماتا ہے کہ تم کو ان ساری باتوں سے نتیجہ نکال لینا چاہیے کہ جب خدا چاہے گا تم کو دوبارہ زندہ کر دے گا۔ورنہ یہ تمام سلسلۂ پیدائش ہی لغو اور بے معنی قرار دینا پڑتا ہے آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اتنا بڑا کارخانہ جاری کرے اور پھر اس کے اندر کوئی غرض اور حکمت کام نہ کر رہی ہو۔وہ انسان کو پیدا کرتا ہے ایک ایسی چیز سے جو نہایت ہی ذلیل ہے پھر ادنیٰ حالت سے ترقی دیتے دیتے اُسے اعلیٰ درجہ کے مقامات تک پہنچا دیتا ہے۔اُس کے اندر ایسی قوتیں رکھتا ہے جو غیر محدود ہیں اور جوں جوں ترقی کے سامان ظاہر ہوتے چلے جاتے ہیں اُس کے مقابلہ میں اُس کی اندرونی قوتیں بھی رُونما ہونی شروع ہو جاتی ہیں پھر نہ صرف انسان کے اندر اس نے مختلف قسم کی قوتیں پیدا کیں بلکہ عادت کے ذریعہ وہ اُس کے کاموں میں بشاشت پیدا کر دیتا ہے اور جب اسی طرح ترقی کرتے کرتے انسان اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے تو تم یہ خیال کرتے ہو کہ اس کے بعد روح کو فنا کر دیا جاتا ہے حالانکہ اتنے بڑے کام کے بعد انعام ملنے کا حق ہوتا ہے نہ یہ کہ انعام تو کوئی نہ دیا جائے اور روح کو ابدی طور پر فنا کر دیا جائے۔پھر جب انسان مر جاتا ہے تو تمہاری فطرت میں اللہ تعالیٰ نے یہ مادہ پیدا کیا ہوا ہوتا ہے کہ تم اپنے مردہ کی عزت کرو چنانچہ تم اپنے اپنے طریق کے مطابق احترام کے ساتھ اُسے اپنے گھر سے جُدا کرتے ہو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ