تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 265

دیتے ہیں۔ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقْبَرَہٗ کے معنے فَاَقْبَرَہٗ جب انسان کو ہم موت دیتے ہیں تو اس کے بعد اُسے قبر میں داخل کرتے ہیں۔اَقْبَرَہٗ کے معنے ہیں جَعَلَ لَہٗ قَبْرًا یُدْفَنُ فِیْہِ (اقرب) کہ اُس کے لئے ایک قبر مقرر کی جس میں وہ دفن کیا جاتا ہے اور یہ بھی اس کے معنے ہو سکتے ہیں کہ جَعٔلَہٗ مِمَّنْ یُقْبَرُ اُسے اُن لوگوں میں سے بنایا جن کے لئے قبر میں داخل ہونا مقدّر ہے اور اَقْبَرَ الْقَوْمَ کے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ اَمَرَ اَنْ یُّقْبَرَ قَتِیْلُھُمْ (اقرب) اُس نے حکم دیا کہ اُن کےمقتولوں کو قبروں میں دفن کیا جائے۔پس اَقْبَرَہٗ کے معنے ہوئے قبر میں اس کو داخل کیا یا قبر میں داخل ہونے کا حکم دیا یااُس کیلئے قبر میں داخل ہونے کا نظام جاری کیا۔گویا یا تو اس کے یہ معنے ہوںگے کہ جَعَلَ لَہٗ قَبْرًا یُدْفَنُ فِیْہِ اور یااس کے معنے ہوں گے جَعَلَہٗ مِمَّنْ یُقْبَرُ کہ ہم نے اس کو ایسا بنایا کہ اس کو قبر میں ضرور داخل ہونا پڑتا ہے۔اب اگر فَاَقْبَرَہٗ کے معنے یہ لئے جائیںکہ جَعَلَ لَہٗ قَبْرًا یُدْفَنُ فِیْہِ یعنی ہر انسان قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو یہ معنے اس لحاظ سے یہاں چسپاں نہیں ہوں گے کیونکہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو قبروں میں دفن نہیں ہوتے۔اور اگر وہ معنے لئے جائیں جو اَمَرَ اَنْ یُّقْبَرَ قَتِیْلُھُمْ سے ظاہر ہیں تو وہ بھی یہاں چسپاں نہیں ہو سکتے۔پس میرے نزدیک اَقْبَرَہٗ کے معنے اس جگہ یہی مناسب ہیں کہ جَعَلَہٗ مِمَّنْ یُّقْبَرُ یعنی ہم نے اس کو ایسا بنایا ہے کہ وہ قبر میں داخل کیا جاتا ہے۔درحقیقت یہ ایک دلیل ہے جو پچھلی دلیل کے ایک حصہ اور ٹکڑہ کے طور پر اس جگہ بیان ہوئی ہے۔اگر اَقْبَرَہٗ کے معنے خالی مٹی میں دفن کئے جانے کے ہوں تو یہ الفاظ دلیل کا حصہ نہیں بن سکتے۔ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗمیں بعث بعد الموت کی طرف اشارہ وہ معنے جو عام طور پر ہماری طرف سے اس آیت کے کئے جاتے ہیں کہ اس آیت میں اُس قبر کا ذکر ہے جو عالمِ برزخ میں ہر انسان کو ملتی ہے وہ بھی درست ہیں مگر دشمن کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک ڈھکوسلہ ہے ہمیں تو نظر نہیں آتا کہ اگلے جہان میں ہر مرنے والے کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے اس لئے ہم تمہاری اس بے دلیل بات کو کس طرح مان سکتے ہیں اور میرے نزدیک جبکہ یہ ایک دلیل ہے جو گزشتہ دلیل کے جزو کے طور پر بیان ہوئی ہے تو بہرحال اَقْبَرَہٗ کا کوئی حصّہ دنیا میں بھی نظر آنا چاہیے۔جو اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے معنے یہ کریں کہ جَعَلَہٗ مِمَّنْ یُّقْبَرُ یعنی انسانی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے یہ مادہ رکھ دیا ہے کہ وہ اپنے مردے کو قبر میں داخل کرے۔اگر بعض لوگ اپنے مُردوں کو جلادیتے ہیں تو درحقیقت وہ بھی اسی لئے جلاتے ہیں کہ وہ پسند نہیں کرتے کہ اُن کے مُردے سڑتے گلتے رہیں اسی لئے وہ ان کو جلا کر راکھ کر دیتے ہیں۔جو لوگ اپنے مُردے جانوروں کو کھلا دیتے ہیں وہ بھی اسی لئے کہ اُن کے نزدیک مردہ کا احترام یہ تقاضا کرتا