تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 266

ہے کہ ایسا کیا جائے۔گویا مُردوں کی عزت اور اُن کا احترام کرنا انسانی فطرت میں داخل ہے اور یہی معنے فَاَقْبَرَہٗ کے ہیں کہ کوئی انسان اپنے مُردے کی ہتک برداشت نہیں کر سکتا باوجود اس کے کہ وہ ایک بے جان لاشہ ہوتا ہے فطرتِ انسانی اس بات کو برداشت نہیں کر سکتی کہ اُسے یونہی پھینک دیا جائے بلکہ ہر انسان خواہ وُہ کسی مذہب و ملّت سے تعلق رکھتا ہو اُس کا مناسب اعزاز کرے گا اور اپنے اپنے رنگ میں جو سلوک مناسب ہو گا اُس سے کرے گا۔اور یہی وہ بات ہے جس میں انسان دوسرے جانداروں سے ممتاز ہے ورنہ اگر کھانے کو لو۔تو انسان بھی کھاتا ہے اور جانور بھی کھاتا ہے۔سونے کو لو تو انسان بھی سوتا ہے اور جانور بھی سوتا ہے مرنے کو لو تو انسان بھی مرتا ہے اور جانوربھی مرتا ہے۔آگے یہ فرق ہو جاتا ہے کہ جانوروں میں یہ مادہ نہیں کہ وہ دوسرے جانوروں کی لاشوں کو دفنائیں لیکن کوئی انسان اپنے مردوں کو ایسی طرز پر نہیں رکھتا جس سے ان کے اعزاز میں فرق آئے۔یہ مردے کا اعزاز اور اُس کا احترام جو انسانی فطرت میں داخل ہے بتاتا ہے کہ انسانی زندگی موت پر ختم نہیں ہو جاتی۔اگر انسان کی زندگی اُس کی موت پر ختم ہے تو پھر اُس کے جسم کا احترام کون سا رہا یا اُس کے اعزاز کی ضرورت ہی کیا ہے اس صورت میں بیشک اُسے میدان میں پھینک دیا جائے کوئی حرج نہیں ہو گا۔لیکن فطرتِ انسانی میں اس مادہ کا ہونا کہ مُردے کی عزت کی جائے اور اس کی عظمت میں کوئی فرق نہ آئے اس بات کی دلیل ہے کہ زندگی موت کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتی۔فرماتا ہے ہم تمہارے سامنے اس فطری دلیل کو پیش کرتے ہیں۔تم اپنے مردہ کی لاش کو تحقیر کے ساتھ پھینکتے نہیں بلکہ اس کا مناسب احترام کرنا ضروری سمجھتے ہو۔اگر اس کی آئندہ زندگی کا کوئی امکان نہیں تو تمہارے دل میں یہ خیال کیوں پیدا ہوتا ہے کہ مردے کا مناسب احترام کیا جائے۔خواہ تم اپنے مُردوں کو بجلی سے جلا دو خواہ لکڑیوں کے انبار میں رکھ کر آگ لگا دو۔خواہ خاص مقام پر رکھ کر سدھائی ہوئی چیلوں اور گِدھوں کو کھلا دو۔بہرحال تم اپنے مُردوں سے وہ معاملہ نہیں کرتے جو جانور کرتے ہیں ایک کُتّا مر جاتا ہے تو دوسرے کُتوں کو خیال بھی نہیں آتا کہ اس کے ساتھ کوئی خاص سلوک کریں وہ اُسی طرح پڑا رہتا ہے یہاں تک کہ گل سڑ جاتا ہے۔اسی طرح اگر انسانی زندگی اُس کی موت پر ختم تھی تو پھر چاہیے تھا لوگ اپنے مردوں کو یونہی پھینک دیتے مگر وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ اپنے اپنے رنگ میں اس کا مناسب اعزاز کرتے ہیں پس فرماتا ہے ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقْبَرَہٗ ہم انسان کوموت دیتے ہیں۔اور پھر اُس کے رشتہ داروں کے دلوں میں ایسی حس پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ اس کی لاش کو یوں ہی نہیں پھینک دیتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں اگر ہم نے ایسا کیا تو مردہ کی عزت اور احترام میں فرق آئے گا۔یہ دلیلِ فطرت پیش کر کے اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ جب مرنے کے بعد بھی تم عزت کے قائل ہو اور لاش کی عزت کرنا اپنے لئے ضروری سمجھتے ہو تو اس سے معلوم ہوا