تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 257
مرفوعۃ کے لفظ کا ظاہری معنے کے لحاظ سے پورا ہونا دوسری صفت اللہ تعالیٰ نے مَرْفُوْعَۃٌ بیان فرمائی ہے۔رَفَعَ کے معنے ہوتے ہیں اونچا کیا۔یعنی ذلّت نہ کی بلکہ اعزاز کیا۔اس کے مقابلہ میں صحابہؓ کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ کِرَامٌ ہوں گے اور کِرَامٌ کے معنے بزرگ کے ہوتے ہیں اس جگہ قرآن کے متعلق مَرْفُوْعَۃٌ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں مَرْفُوْعَۃٌ کے معنے ذی شان ہونے کے ہیں۔یہ بات ظاہری لحاظ سے بھی قرآن کریم کے متعلق پائی جاتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو قرآن کو اُمت محمدؐیہ کبھی نیچا نہیں رکھتی ہمیشہ اُسے اُونچی جگہ پر رکھا جاتا ہے بلکہ اگر کوئی شخص قرآن کریم کو نیچے رکھ دے تو سب مسلمان اس سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں کہ تم نے قرآن کریم کی ہتک کی۔پس ظاہر میں بھی یہ معنے قرآن کریم پر چسپاں ہو جاتے ہیں کیونکہ مسلمان جس طرح قرآن کو اُنچا رکھتے ہیں دُنیا کی کوئی عالمگیر قوم اپنی الہامی کتاب کی اس طرح عزت نہیں کرتی۔درحقیقت اور کوئی عالمگیر قوم اپنی کتاب کو اونچا رکھنے کی عادی ہی نہیں۔نہ عیسائی انجیل کو اونچا رکھتے ہیں نہ یہودی تورات کو اونچا رکھتے ہیں۔یہ شرف صرف قرآن کریم کو ہی حاصل ہے کہ مسلمان اس کو اونچی جگہ پر رکھتے ہیں۔اس کو نیچے رکھنا وہ برداشت ہی نہیں کر سکتے۔مَیں نے بتایا تھا کہ قرآن کریم کی تین صفات جو اِس جگہ بیان کی گئی ہیں وہ حاملینِ قرآن کی تین صفات کے مقابل میں رکھی گئی ہیں اوراس طرح بتایا گیا ہے کہ ان میں سے ایک چیز دوسری چیز کا سبب ہے چنانچہ دیکھ لو قرآن مُکْرَّمَۃ ہو گیا اس لئے کہ وہ سَفَرَۃ کے ہاتھ میں تھا جو اُسے لے کردُنیا کے مختلف مُلکوں میں پھیل گئے اور سَفَرَۃ۔مُکَرَّم ہو گئے اس لئے کہ اُن کے ہاتھوں میں وہ کتاب تھی جو بڑی عزت والی تھی۔گویا یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے لازم ملزوم تھیں۔یہ جوش جو کسی شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے کہ مَیں اس چیز کو اپنے ہاتھ میں لیکر باہر نکل جائوں اسی لئے پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس چیز کو مُکَرَّمَۃ سمجھتا ہے اور اُسے یقین ہوتا ہے کہ اس چیز کو پھیلانا میری عزت کا موجب ہے مگر جب وُہ اسے پھیلا دیتا ہے تو اس کا طبعی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ خود بھی مکرّم بن جاتا ہے کیونکہ وہ ایسی چیز کو پھیلاتا ہے جو تکریم رکھنے والی ہوتی ہے۔گویا قرآن کا مُکَرَّم ہونا سَفَرَۃ کی وجہ سے تھا اور سَفَرَۃ کا مُکَرَّم ہونا قرآن کی وجہ سے تھا۔قرآن مسلمانوں کی عزت کا باعث ہوا۔اور مسلمان قرآن کی عزت کو بڑھانے کا باعث ہوئے جیسے ایک مشینری چکّر کھاتی چلی جاتی ہے اُسی طرح ایک طرف قرآن نے صحابہؓ کو اونچا کیا اور دوسری طرف صحابہؓ نے قرآن کو اونچا کیا۔صحابہؓ قرآن کی عزت بڑھانے کا موجب ہوتے تھے اور قرآن صحابہؓ کی عزت بڑھانے کا موجب ہوتا تھا۔