تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 258
دوسری صفت قرآن کی مَرْفُوْعَۃ بتائی کہ وہ بڑی ذی شان کتاب ہے۔ا ب یہ لازمی بات ہے کہ جس شخص کے پاس کوئی ذی شان چیز ہو گی وہ ضرور کِرَامٌ بن جائے گا۔مگر دوسری طرف جس چیز کی کِرَامٌ عزت کریں وہ بھی ذی شان اور معزز ہو جاتی ہے چنانچہ دیکھ لو جب کوئی معزز آدمی کسی کی عزت کرے گا لوگ کہیں گے کہ معلوم ہوتا ہے یہ شخص بڑی عزت والا ہے کیونکہ فلاں معزز آدمی نے اس کی عزت کی تھی۔پس وہ اس کی عزت کرنے پر مجبور ہوں گے۔اور جب وہ معزز بن کر پھر دوسرے کی عزت کرے گا تو اس کی شہرت میں بھی اضافہ ہو گا کہ اسے فلاں معزز آدمی عزت کی نگا ہ سے دیکھتا ہے۔گویا یہ ایک سِلسلہ ہے جو مشینری کی طرح چکّر کھاتا چلا جاتا ہے۔جو لوگ خود کسی چیز کے اوصاف سے ذاتی طور پر واقف نہ ہوں وہ اگر اُس چیز سے متاثر ہوتے ہیں تو اُسی وقت جب وہ دیکھیں کہ کوئی بڑاآدمی جس کا اُس کے دل میں احترام موجود ہے اُس چیز کی تعریف کر ر ہا ہے یہ دیکھ کر وہ خود بھی اُس کے مدّاح بن جاتے ہیں۔اب جو قرآن کریم پر ایمان رکھتے تھے وہ تو اُس کی عزت کرتے ہی تھے مگر ایک عیسائی کے نزدیک قرآن کریم کی عظمت کا سب سے بڑا ثبوت یہ تھا کہ روم کے بادشاہ کو بھی اس کی عظمت کا احساس ہے اور وہ کہتا ہے یہ بہت بڑی کتاب ہے جسے عمرؓ جیسا عظیم الشان انسان مانتا ہے حالانکہ عمرؓ کیوں بڑے بنے اسی لئے کہ انہوں نے قرآن پر عمل کیا۔گویا ایک طرف روما کا بادشاہ یہ کہے گا کہ قرآن بڑی کتاب ہے جس کو عمرؓ جیسا انسان مانتا ہے اور دوسری طرف عمرؓ کی حقیقت کو جاننے والا یہ کہے گا کہ قرآن بڑی کتاب ہے کیونکہ اس کو ماننے والا عمرؓ ادنیٰ حالت سے ترقی کر کے اِس قدر بڑا بن گیا۔غرض جب سچّی باتیں ایک دوسرے کے مقابل میں آجاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ ایک دوسرے کو اُبھارتی چلی جاتی ہیں۔اِسی لئے فرمایا کہ قرآن مَرْفُوْعَۃ ہے یعنی بڑی ذی شان کتاب ہے اور اس کے ذی شان ہونے کا ثبوت یہ ہو گا کہ اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے عزت پاتے چلے جائیں گے اور جب وہ عزت پا جائیں گے تو پھر قرآن کو ایک نئی عزت حاصل ہو گی کیونکہ لوگ کہیں گے کہ اِس کتاب کو تو بڑے بڑے معززآدمی مانتے ہیں پھر یہ بات دوبارہ چکّر کھائے گی کہ قرآن کریم کی نئی حاصل کر دہ عزت کی وجہ سے کچھ اور لوگ اس کا عملی تجربہ کرنے کی طرف متوجہ ہوں گے اور اس کی اتباع سے عزّت پائیں گے اور پھر اور لوگ ان کی عزّت کو دیکھ کر قرآن کریم کی عزّت کے قائل ہوںگے اور اِسی طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جائے گا۔قرآن لوگوں کو کرام بنائے گا اور لوگ قرآن کو مرفوعہ بنائیں گے گویا پہلے مُکَرَّمَۃ کے ذریعہ سے قرآن کریم کی ذاتی عزت بتائی پھر مَرفُوْعَۃ کے ذریعہ سے بتایا کہ قرآن مسلمانوں کو کِرَامٌ بنا دے گا اور وہ اسے مَرْفُوْعَۃ بنا دیں گے۔مسلمان سارے عالم پر چھا جائیں گے اور اس طرح پھر دوسری قسم کی عزّت قرآن کریم کو ملے گی یعنی بادشاہوں کا محبوب