تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 20

یہ عجیب بات نہیں کہ خدا نے تمہارے لئے ایک طرف تو زمین کو پیدا کیا جس سے تم اپنے کھانے کا سامان حاصل کرتے ہو اپنے پینے کا سامان حاصل کرتے ہو۔اپنے لباس کا سامان حاصل کرتے ہو۔اپنی رہائش کا سامان حاصل کرتے ہو۔اور دُوسری طرف اُس نے پہاڑ بنا دیئے جن سے یہ فوائد ایک مستقل صورت اختیار کر گئے ہیں تیسری طرف اُس نے تمہیں نر و مادہ بنا دیا تا کہ تمہاری نسل قائم رہے اور مستقل صورت اختیار کرے اور تم ان چیزوں سے ہمیشہ فائدہ اُٹھاتے رہو۔مگر تمہاری یہ حالت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس لمبے سلسلہ ٔ پیدائش کے متعلق تم یہ کہہ رہے ہو کہ یہ سب لغو اور فضول ہے ان کی پیدائش کسی حکمت پر مبنی نہیں۔خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًا کی دوسری تشریح زَوْج کے ایک معنے صِنف کے بھی ہوتے ہیں اس لحاظ سے خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًا کا یہ مفہوم ہو گا کہ ہم نے تم کو مختلف اقسام میں پیدا کیا ہے یعنی کوئی شخص تم میں سے ایسا ہے جو تصویر کشی کی رغبت رکھتا ہے۔کوئی ایسا ہے جو نجّار بننے کی قابلیت رکھتا ہے۔کوئی ایسا ہے جسے سائنس میں انہماک ہے۔کوئی ایسا ہے جو حساب سے دلچسپی لیتا ہے کوئی ایسا ہے جو تاریخ کی طرف مائل ہے۔غرض ہم نے تم کو مختلف اقسام میں تقسیم کر دیا ہے۔اگر سب طبائع یکساں ہوتیں تو دنیا ایک ہی حالت میں چلتی چلی جاتی اور اُس میں کسی قسم کی ترقی نہ ہوتی۔مگر ہم نے انسانی دماغ کو اتنا متنوّع بنا یا ہے اور اس قدر اقسام در اقسام صورت میں ترقیات کا میدان اس کے لئے کھولا ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے مذاق اور اپنی اپنی طبیعت کے مطابق جس لائن کو چاہتا ہے اختیار کر لیتا ہے۔کوئی دنیا میں مشغول ہے کوئی دین میں مشغول ہے کوئی سائنس کی طرف توجہ کر رہا ہے۔کوئی علم الاخلاق میں ترقی کر رہا ہے۔کوئی علم ہندسہ میں سبقت لے جانا چاہتا ہے کوئی تاریخ سے اپنی دلچسپی کا اظہار کر رہا ہے۔غرض اپنے اپنے رنگ میں انسانی فطرت اس میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ تنوّع اس بات کی دلیل ہے کہ انسان میں خدا تعالیٰ نے کسی غیر مرئی چیز کو پا لینے کی رغبت پیدا کی ہے اور اس کے اندر یہ تڑپ رکھی ہے کہ وہ اس مخفی اور غیر مرئی چیز کو حاصل کرنے کی جدّوجہد کرے۔چنانچہ اس کوشش اور تلاش میں کوئی کسی طرف دوڑ رہا ہے اور کوئی کسی طرف دوڑ رہاہے جیسے پانی جب بہایا جاتا ہے تو وہ نشیب کی طرف بہہ پڑتا ہے اسی طرح انسانی طبیعت اپنے اپنے مذاق کے مطابق مختلف رستوں پر دوڑ رہی ہے۔کوئی کسی رستہ سے اس چیز کو حاصل کرنا چاہتا ہے اور کوئی کسی رستہ سے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کسی خاندان کا بچہ کھویا جائے تو اس خاندان کے کچھ افراد مشرق کو چل پڑیں گے کچھ مغرب کی طرف چلے جائیں گے۔کچھ شمال کی طرف دوڑ پڑیں گے اور کچھ جنوب کی سمت اختیارکرلیں گے مگر مقصد سب کا ایک ہی ہو گا کہ کسی طرح اس بچہ کو ڈھونڈا جائے۔اسی طرح انسانی فطرت مختلف رستوں پر مختلف جہات کی طرف بھاگ