تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 21
رہی ہے جو ثبوت ہے اس بات کا کہ کوئی چیز ایسی ہے جس کے متعلق فطرت یہ محسوس کرتی ہے کہ اُسے حاصل کرنا چاہیے۔مگر چونکہ اُسے علم نہیں کہ وہ کہاں ہے اس لئے مختلف جہات سے وہ اس چیز کو پکڑنے کی کوشش کرتی ہے یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ انسانی فطرت اپنے لئے کسی ایسے مقصود کی طالب ہے جس کے مقام کا علم خود اُسے اپنی ذات کے اندر سے نہیں حاصل ہوتا اور چونکہ اُسے اپنی ذات سے اُس کے مقام کا علم حاصل نہیں ہوتا اس لئے وہ مختلف جہات سے اس کو تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور یہ حالت چلتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اپنا کلام نازل کرکے اس مقصد کو ظاہر کردیتا ہے پھر انسان کی تسلی ہو جاتی ہے اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ مقصد میں نے پا لیا جس کے لئے میں کوشش کر رہا تھااور جس کے لئے خدا نے مختلف قسم کے مادے انسانی فطرت میں پیدا کئے تھے۔انسانوں کو مختلف الطبائع پیدا کر نا بعث بعد الموت پر دال ہے گویا ایک طرف زمین اور جبال کی پیدائش کا سلسلہ اور دوسری طرف انسانی فطرت میں تنوّع کا پایا جانا ا ور مختلف الطبائع انسانوں کا مختلف جہات کی طرف اپنے مقصد کے حصول کے لئے دوڑنا یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ انسان کے سامنے کوئی بہت بڑا مقصدہے جس کے حصول کے لئے اُس نے کوشش کرنی ہے پس انسانی فطرت کی یہ کشمکش ایک طرف کلام الٰہی کی ضرورت پر دلالت کرتی ہے دوسری طرف بعث بعد الموت پر دلالت کرتی ہے اور تیسری طرف کلام الٰہی کے نزول کے بعد اس کے غلبہ پر بھی دلالت کرتی ہے کیونکہ اگر کلامِ الٰہی کا غلبہ نہیں ہونا تھا تو پھر اُس کے نزول کا کوئی فائدہ نہ تھا پس یہ امر کلام الٰہی کے غالب آنے پر بھی دلالت کرتا ہے۔خلاصہ یہ کہ زمین جس پر انسان بستا ہے اس میں بے انتہاء اشیاء اور قوتیں پیدا کر کے اور پہاڑوں کے ذریعہ سے خورونوش اور سائنٹفک ترقیات کے سامانوں کو مستقل رنگ دے کر اور انسانوں کو اس صورت میں پیدا کر کے کہ وہ مختلف مزاجوں کے مطابق زمین کی مختلف قابلیتوں کو ترقی دیں اور اُن سے فائدہ اُٹھائیں۔اور پھر انسان کو بھی مرد وزن بنا کر اور ایک مستقل قائم رہنے والے وجود کی شکل دے کر اللہ تعالیٰ نے ثابت کر دیا ہےکہ انسان غیر محدود ترقیات کے لئے اور دائمی زندگی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اگر یہ بات ثابت ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس دنیا میں فنا ہو نے والے انسان کے لئے کسی اور دنیا میں دائمی زندگی کا سامان مہیا ہونا چاہیے اور اس دائمی زندگی کے لئے کوئی ہدایت نامہ اور اس ہدایت نامہ پر چلنے والوں کے لئے کامیابی کی ضمانت بھی ہونی چاہیے۔ورنہ کارخانۂ عالم بیکار محض ثابت ہوتا ہے۔