تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 230
ان کے معنوں کو تسلیم کرتے ہوئے ضمائر کے بدلنے کی کوئی وجہ نہیں نظر آتی۔اب دوہی صورتیں رہ جاتی ہیں جن میں سے پہلی یہ ہے کہ عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى ہم کسی غیر کے متعلق سمجھیں اور مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤىرسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق قرار دیں۔مگر اس صورت میں جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں یہ مشکل پیش آتی ہے کہ ہمیں اس واقعہ کا انکار کرنا پڑتا ہے جو ابن اُم مکتوم کے متعلق احادیث اور تاریخ کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔حالانکہ یہ واقعہ ایسا ہے جس کا اس قدر شہادات کے بعد کسی صورت میں بھی انکار نہیں کیا جا سکتا متواتر تاریخی کتب میں اس واقعہ کو دوہرایا گیا ہے اور صحاح ستہ کی بعض کتب میں بھی یہ واقعہ پایا جاتا ہے (ترمذی ابواب التفسیر،باب سورۃ عبس) پس اگر ہم عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى کو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق نہ سمجھیں تو ایک بہت بڑے تاریخی واقعہ کو غلط قرار دینا پڑتا ہے۔حالانکہ تاریخی ثبوت اُس وقت تک ردّ نہیں کیا جا سکتا جب تک کوئی ویسا ہی اہم ثبوت اس کی تردید نہ کر دے۔اب صرف چوتھی صورت ہی رہ جاتی ہے کہ عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق سمجھیں اور مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤى کا خطاب کسی اور سے قرار دیں۔اور میرے نزدیک یہی صورت ایسی ہے جس سے اس مشکل کا حل ہو سکتا ہے اس طرح قصّہ کی بناوٹ پر جوزد پڑتی ہے وہ دُور ہو جاتی ہے اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے مقام اور آپ کی شان پر بھی کوئی اعتراض واقع نہیں ہو سکتا۔پس میرے نزدیک عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ابن اُم مکتوم کا واقعہ بالکل صحیح ہے کیونکہ تواتر اور تکرار سے یہ واقعہ مختلف کتب میں بیان کیا گیا ہے اور ہم بغیر کسی قطعی اور یقینی ثبوت کے جو تاریخی شہادت بھی اپنے اندر رکھتا ہو اس واقعہ کو ردّ نہیں کر سکتے۔بہرحال ابن اُم مکتوم آئے اور اُس وقت آئے جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کفار مکّہ کے بڑے بڑے رئوسا ءکو تبلیغ کر رہے تھے۔اُنہیں یہ دیکھ کر جوش پیدا ہوا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اِن کفار پر اپنے قیمتی وقت کو کیوں ضائع کر رہے ہیں۔دنیا میں مختلف طبائع ہوتی ہیں اور وہ اپنے اپنے رنگ میں خیالات کا اظہار کر دیتی ہیں۔میں نے احمدیوں میں بھی دیکھا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جب اُنہیں معلوم ہو کہ کسی شدید دشمن کو تبلیغ کی جا رہی ہے تو وہ اُس وقت برداشت نہیں کر سکتے۔اور وہ کہتے ہیں کہ جانے بھی دو یہ مردود لوگ ہیں یہ مُنہ لگانے کے قابل نہیں یہ تو دوزخ کی آگ میں جلنے والے ہیں ان پر اپنا وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔گویا دشمن کو دیکھ کر اُن کی طبیعت میں ایسا جوش پیدا ہوتا ہے کہ وہ یہ برداشت ہی نہیں کر سکتے کہ اُن سے باتیں کیوںکی جا رہی ہیں۔اُن کا نقطۂ نگاہ یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ تو جہنم کا ایندھن ہیں اِسی مخالفت کی حالت میں مریں گے اور خدا کے غضب کے مستحق ہوں گے انہیں تبلیغ کرنا۔خدا اور اس کے رسول