تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 229
پڑنے کی ضرورت نہیں۔روایات نہایت تواتر سے ابنِ ام مکتوم کا قصہ بیان کرتی ہیں اور جس قصہ کو اِتنے تواتر اور تکرار کے ساتھ مختلف کتب میں بیان کیا جائے وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا۔بہرحال ماننا پڑتا ہے کہ کوئی واقعہ ہوا ضرور ہے۔پس اگر ہم عَبَسَ اور مَایُدْرِیْکَ دونوں کسی غیر کے متعلق قرار دیں تو اس قصّہ کو سرے سے جھوٹا کہنا پڑتا ہے اور یہ بات بظاہر ناممکن ہے۔ہم احادیث اور تاریخ دونوں میں اس واقعہ کا تکرار کے ساتھ ذکر پاتے ہیں اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عَبَسَ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق نہیں بلکہ کسی اور کے متعلق ہے۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ہم عَبَسَ بھی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق سمجھ لیتے ہیں اور مَایُدْرِیْکَ میں بھی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو مخاطب سمجھ لیتے ہیں۔مگر پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ضمائر کو کیوں بدلا۔پہلے اُس نے عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى کیوں کہا اور پھر اُس نے مَایُدْرِیْکَ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیوںکیا؟ مفسّرین اس موقعہ پر بیان کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىمیں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا لحاظ کر کے غائب کے صیغے استعمال فرمائے ہیں اگر مخاطب کے صیغے استعمال کئے جاتے تو آپ کو زیادہ تکلیف ہوتی اس لئے خدا تعالیٰ نے یہ خیال کر کے کہ آپ کو بُرا نہ لگے عَبَسْتَ وَتَوَلَّیْتَ اَنْ جَآئَ کَ الْاَعْمٰی نہیں فرمایا بلکہ عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى۔اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى فرمایا۔پھر ذرا اعتاب کم ہو گیا تو مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤى سے آپ کو خطاب شروع کر دیا۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اگلی آیتوں میں عتاب زیادہ ہے کم نہیں ہے۔اور عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىمیں تو عتاب ہے ہی نہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ایک اندھے کے سامنے عَبُوْس اور تَوَلّٰٓی سے کام لینا ہر گز کوئی ایسا فعل نہیں ہے جس سے اس کی دلآزاری ہو اور نہ یہ فعل ایسا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عتاب نازل ہونے کا امکان ہو۔بلکہ یہ تو آپ کے اعلیٰ درجہ کےاخلاق کا ایک ثبوت تھا۔پس یہ عجیب بات ہے کہ جہاں عتاب نہیں تھا وہاں تواُس نے غائب کے صیغے استعمال کئے اور جہاں بہت زیادہ عتاب تھا وہاں اُس نے مخاطب کے صیغے استعمال کرنے شروع کر دئے۔آخر یہ کتنے سخت الفاظ ہیں کہ اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰى۔فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰى۔وَ مَا عَلَيْكَ اَلَّا يَزَّكّٰى۔وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ يَسْعٰى۔وَ هُوَ يَخْشٰى۔فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰى۔کہ جوشخص مستغنی ہے تو اُس کی طرف پوری توجہ دیتا ہے حالانکہ تجھ پر کوئی اعتراض نہیں اگر وہ پاک نہ ہو اور جو تیری طرف دوڑتا آتا ہے اور وہ ڈرتا بھی ہے تُو اس سے بے رغبتی ظاہر کرتا ہے۔کیا یہ عبوس اور تولّی سے کم خطرناک الفاظ ہیں؟ پس جہاں واقعہ میں توبیخ کا موقع تھا وہاں تو اللہ تعالیٰ نے مخاطب کے صیغے استعمال کر دیئے اورجہاں توبیخ کا کوئی موقع ہی نہیں تھا بلکہ تعریف کا موقع تھا وہاں اس نے غائب کے صیغے رکھ دئے۔گویا تعریف کو تو نظر انداز کر دیا اور توبیخ کے پہلو کو نمایاں کر دیا۔پس یہ توجیہہ جو مفسّرین کی طرف سے کی جاتی ہے بالکل غلط ہے اور