تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 224

منہ لگا کر کہہ رہے تھے کہ دیکھو اللہ ایک ہے۔اللہ نے ہی سب دنیا کو پیدا کیا ہے۔بُتوں میں کچھ نہیں رکھا۔انہیں چھوڑ دو اور توحید کا اقرار کرو۔دنیا کا کوئی بھی معقول انسان اسے تسلیم نہیں کر سکتا بلکہ جس شخص کے سامنے بھی یہ بات پیش کی جائے وہ ہنس پڑے گا کہ کیسی جاہلانہ بات کہی جا رہی ہے۔دوسری دلیل۔(۲) دوسرے اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا تو آپ نے عین ثواب کا کا م کیا اُن پر اعتراض کیسا؟ آپ بڑے بڑے رئوساء کو تبلیغ کر رہے تھے۔اُن پر اسلام کی حقیقت واضح کر رہے تھے۔اُن کو خدا اور اُس کے رسول کی طرف بُلا رہے تھے۔ایسی حالت میں جب ایک شخص نے آپ کے کلام کو قطع کرنا چاہا اور موقع اور محل کو نظرانداز کر کے تہذیب وشائستگی کے اصول کے بالکل خلاف ایک بات پیش کر دی تو اُس وقت رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اگراس کی بات کا جواب نہیں دیا تو آپ نے بالکل درست کیا۔قرآن کریم کی کوئی آیت ایسی نہیں جو ہمیں اس فعل سے روکتی ہو بلکہ اگر آج بھی ہماری مجلس میں کوئی ایسی حرکت کرے تو باوجود عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى والی آیت کے نازل ہونے کے ہم آج بھی اس سے وہی سلوک کریں گے جو عبداللہ بن ام مکتوم سے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے کیا۔میں اگر قرآن کریم کا درس دے رہا ہوں اور کوئی شخص درمیان میں مجھے آکر کہے کہ اس درس کو چھوڑئیے اور میری فلاں بات کا جواب دیجئے۔تو کیا میں اُس وقت درس چھوڑ دوں گا اور اس کی بات کی طرف متوجہ ہو جائوں گا۔یا اُس سے اعراض کروں گا کہ اُس نے موقع اور محل کو نظر انداز کر کے سلسلہ کلام کو قطع کرنا چاہا؟ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایسے موقع پر اعراض کرنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ا گر درمیان میں کوئی شخص دخل دے دے تو اس سے بات کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔طبائع پر جو اثر ہو رہا ہوتا ہے وہ جاتا رہتا ہے۔دلیل بھول جاتی ہے اور دخل دینے والے کی بدتہذیبی کا الگ اثر پڑتا ہے۔پس ایسی حالت میں ضروری ہوتا ہے کہ اس کی بات کی طرف توجہ نہ کی جائے۔کیا کوئی شخص اس بات کو جائز قرار دے سکتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم تو اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت پیش کر رہے ہوتے اور ابن ام مکتوم کے دخل دینے پر اُسے سورۂ نَازِعَات کا درس دیناشروع کر دیتے اور جب گھنٹہ بھر گزر جاتا تو پھر اُن لوگوں سے کہتے کہ لواب بقیہ آدھی دلیل تم بھی سن لو؟ دنیامیں جاہل سے جاہل اور احمق سے احمق انسان بھی ایسی حرکت نہیں کرتا مگر یہ لوگ محض اس بات کی وجہ سے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو موردِ الزام قرار دیتے ہیں۔اور بتاتے ہیں کہ آپ کو تبلیغ چھوڑ کر ابن ام مکتوم کی طرف متوجہ ہو جانا چاہیے تھا اور تہذیب وتمدن کے تمام اصول کو بالائے طاق رکھ دینا چاہیے تھا۔گویا یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کو ایک ایسا رنگ دینا چاہتے ہیں جسے دنیا میں کہیں بھی معقول قرار نہیں دیا جاتا۔