تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 223
صلے اللہ علیہ وسلم بعض اور لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے اور عبدا للہ بن اُم مکتوم نے اس میں دخل دے دیا اور آپ کی بات کو قطع کرنا چاہا تو ایسی صورت میں عبداللہ بن اُم مکتوم ہی زجر کے قابل تھا کہ اُس نے خلافِ تہذیب ایک حرکت کا ارتکاب کیا۔بہرحال یہ ایک اعتراض ہے جو مفسرین کو بھی سوجھا ہے اور انہوں نے اس کا جواب دینے کی بھی کوشش کی ہے مگر وہ جواب ایسا کمزور ہے کہ اُسے پڑھ کر حیرت آتی ہے کہ مفسرین نے یہ کیا کہہ دیا چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم شاید ان لوگوں کو کان میں تبلیغ کر رہے تھے جس کی آواز عبداللہ بن ام مکتوم کو نہیں پہنچی(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھذا)۔مگر یہ بالکل ہنسی کے قابل بات ہے کہ سات آدمی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں موجود ہوں اور ان سات آدمیوں کو آپ کان میں تبلیغ کر رہے ہوں اور ایسی ہلکی آوا زسے کہ کوئی پاس کا شخص بھی اُس کو سُن نہ سکے دُنیا کی کوئی عقل اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتی اور احمق سے احمق انسان بھی اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا کہ سات آدمی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اُن سات آدمیوں کو بجائے کھلے طور پر تبلیغ کرنے کے آپ ہر ایک کے کان کے ساتھ اپنا منہ لگا رہے ہوں اور اُسے اسلام کی تبلیغ کر رہے ہوں۔بات یہ ہے کہ فطرت خود بولتی ہے کہ سچائی کیا ہے خواہ اس پر کس قدر پردے ڈالنے کی کوشش کی جائے۔بہرحال اگر عبداللہ بن اُم مکتوم رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اس وقت بولے جب آ پ دوسروں کو تبلیغ کر رہے تھے تو ملز م ابن ام مکتوم تھے اور اُن کا کوئی حق نہیں تھا کہ وہ اس وقت بولتے۔اور اگر انہوں نے سُنا نہیں کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم تبلیغ کر رہے ہیں تو پھر ثابت کرنا چاہیے کہ وہ بہرے تھے لیکن تاریخ یہ تو بتاتی ہے کہ وہ اندھے تھے یہ نہیں بتاتی کہ وہ اس کے ساتھ بہرے بھی تھے۔اور جب وہ بہرے نہیں تھے جب وہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کوسُن رہے تھے۔جب انہیںمعلوم تھا کہ اس وقت مکہ کے بڑے بڑے رئوساء کو تبلیغ کی جا رہی ہے تو وہ بولے کیوں؟ اُن کااس موقعہ پر بولنا بتا رہا ہے کہ قصور ابن مکتوم کا ہی تھا اور یہ بات تو عقل کے بالکل خلاف ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم بات کر رہے ہوں اور ابن مکتوم نے اُس کو سنا ہی نہ ہو۔جیسے مفسرین نے ایک بے بنیاد توجیہہ کی ہے بہرحال جرم ابن ام مکتوم کا ثابت ہوتا ہے مگر بتایا یہ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈانٹ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو پڑی۔اسی مشکل کی وجہ سے مفسرین نے عجیب قیاس کیا ہے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اُن کو کان میں تبلیغ کر رہے تھے حالانکہ یہ تبلیغ کا موقع تھاکسی کی بیوی کا جھگڑا نہیں تھا کہ اس کے متعلق اسے کان میں کچھ کہنے کی ضرورت ہوتی تاکہ دوسرا شخص اُسے سُن نہ لے۔خدا اور رسول کی باتیں تھیں۔اسلام کی اشاعت کا کام تھا۔توحید کی تعلیم تھی۔مگر بتایا یہ جاتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم بڑی آہستگی سے عتبہ اور شیبہ کے کان کے ساتھ اپنا