تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 225

تیسری دلیل۔(۳) تیسرے اندھے کی بات کو ناپسند کر کے اُس پر تیوری چڑھانا اور مُنہ پھیر لینا یہ تو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ درجہ کے اخلا ق کا ثبوت ہے۔اس پر تو آپ کی تعریف ہونی چاہیے تھی نہ یہ کہ توبیخ نازل ہوتی۔ایک اندھا شخص آتا ہے وہ ایک غیرمعقول بات کرتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ڈانٹتے نہیں تاکہ اُس کا دل میلا نہ ہو صرف اُس کے بار بار دخل دینے کی وجہ سے آپ کے ماتھے پر شکن آجاتے ہیں لیکن پھر بھی آپ کی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکلتے آپ چاہتے تھے کہ اُس کا دل نہ دُکھے مگر دُوسری طرف وہ ایک ایسی بات کر رہا تھا جو سراسر غیر معقول تھی۔ایسی حالت میں آپ حیران تھے کہ میں کروںکیا؟ ادھر میں بات کو نہیں چھوڑ سکتادوسری طرف اگر اس کو ڈانٹتا ہوں تو اس کا دل میلا ہوتاہے اب میں کروں توکیا کروں۔ایسی حالت میں بہترین طریق جو ایک انسان اختیار کر سکتا ہے وہ یہی ہے کہ وہ مُنہ پھیر لے اور اس طرح دونوں باتیں ہو جائیں سلسلہ کلام بھی نہ رُکے اور دوسرے شخص کے دل کو بھی صدمہ نہ پہنچے۔چنانچہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے ماتھے پر شکن پڑے اور آپ نے اُس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔مُنہ پھیرنے میں حکمت یہ تھی کہ آپؐ چاہتے تھے مجھے غصہ پیدا نہ ہواگر عبداللہ بن اُم مکتوم میرے سامنے ہو گاتو ممکن ہے غصہ کی حالت میں میرے مُنہ سے کوئی بات نکل جائے۔چنانچہ آپ نے تیوری چڑھائی جس کو اندھا نہیںدیکھ سکتا تھا اور پھر اُس سے مُنہ پھیر لیا تاکہ اس کے متعلق زیادہ غصہ پیدا نہ ہو اور زبان سے کوئی ایسا لفظ نہ نکلے جس سے اُس کے دل کو صدمہ ہو پس آپ کا یہ فعل تو ایسا تھا کہ اس پر عرش سے خدا تعالیٰ کی طرف سے تعریف آنی چاہیے تھی نہ یہ کہ ڈانٹ پڑتی؟ اور کہا جاتا ہے کہ آپ نے اچھا کام نہیں کیا۔پھر اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ طریق اختیار نہ کرتے تو مفسّرین کو بتانا چاہیے تھا کہ آپؐ کیا کرتے اور وہ کون سا دوسرا قدم تھا جو آپ تمام اخلاقی پہلوئوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اٹھا سکتے تھے۔مگر وہ کوئی دوسرا طریق نہیں بتا سکے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے نزدیک بھی یہی طریق تھا جو اس موقعہ پر اختیار کیا جا سکتا تھا۔اگر اس واقعہ سے کچھ پتہ چلتا ہے تو وہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیوری چڑھائی اور آپ کو ابن ام مکتوم کی بات بُری لگی لیکن آپ نے اُسے کوئی جواب نہیں دیا۔صرف زائد بات یہ کی کہ جب آپ نے دیکھا کہ وہ باز نہیں آتا تو آپ کو یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسا نہ ہواُسے اپنے سامنے بیٹھے دیکھ کر غصہ میں میرے منہ سے کوئی بات نکل جائے۔آپ نے اس کی طرف سےاپنا منہ پھیر لیا تا کہ نہ وہ نظر آئے اور نہ اس کے متعلق طبیعت میں زیادہ جوش پیدا ہو اور یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر دلالت کرتی ہیں۔چوتھی دلیل۔(۴)چوتھے ابن اُم مکتوم خود ایک بڑے خاندان کے فرد تھے۔اس لئے ان کو حقیر سمجھنے کے کوئی معنے