تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 222

اسلام نے ان کے دلوں سے یہ بات دُور کی ورنہ شروع شروع میں یہ بالکل ناممکن تھا کہ وہ کسی ایسے آدمی کی امارت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتے جو خاندانی طور پر کوئی اثر نہ رکھتا ہو۔پس یہ سمجھنا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک حقیر آدمی آیا اور آپ نے اُس کی طرف محض اُس کی غربت اور عدم عزّت کی وجہ سے توجہ نہ کی بالبداہت باطل ہے اور یہ اتنا موٹا مضمون ہے کہ تعجب آتا ہے مسلمانوں کی سمجھ میں کیوں نہیں آیا حالانکہ بعض دشمنانِ اسلام کی سمجھ میں آگیا ہے چنانچہ نولڈکے NOLDEKEجو مشہور جرمن مستشرق ہے وہ یہ واقعہ لکھ کر کہتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹا واقعہ ہے عبداللہ بن ام مکتوم کا شجرہ نصب بتا رہا ہے کہ وہ کوئی معمولی آدمی نہیں تھا(Wherry Commentery on Quran vol 4 pg۔218)۔اور اس لئے یہ بات اس کے متعلق ہر گز نہیں ہو سکتی گویا اُس کا ذہن بھی اِدھر چلا گیا کہ یہ واقعہ یہاں چسپاں نہیں ہوتا۔حالانکہ اگر یہ بات درست ہوتی تو اُس کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس سے محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوتی ہے مگر وہ کہتا ہے یہ بات واقعات کے بالکل خلاف ہے اور اسے ان آیات پر چسپاں نہیں کیا جا سکتا۔اس سورۃ کے نزول کے متعلق مفسرین کے بیان کئے ہوئے واقعہ پر چسپاں نہ ہونے پر پانچ دلائل میرے نزدیک علاوہ اس شہادت کے پانچ اور امور ایسے ہیں جن کی وجہ سے ہر شخص کو ماننا پڑتا ہے کہ یہ واقعہ اس رنگ میں یہاں چسپاں نہیں ہوتا۔پہلی دلیل (۱) پہلی وجہ یہ ہے کہ ابن ام مکتوم اندھے تھے بہرے نہیںتھے۔یا تو یہ کہا جاتا کہ ابن ام مکتوم بہرے تھے اور چونکہ بہرے ہونے کی وجہ سے وہ باتوں کو نہیںسُن سکتے تھے اس لئے اُن کو پتہ نہیں لگا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم بعض دوسرےلوگوں سے مصروف گفتگو ہیں اور چونکہ اُن کو اپنے بہرے پن کی وجہ سے اس بات کا علم نہیں ہو سکا اس لئے انہوں نے آتے ہی سوال کر دیا۔اگر یہ ثابت ہو جائے تو پھر ابن ام مکتوم پر کوئی الزام عائد نہیں ہوتا۔کیونکہ عدمِ علم کی حالت میں کسی بات کا انسان سے سرزد ہو جانا اُسے موردِ الزام قرار نہیں دے سکتا لیکن تاریخ سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ وہ بہرے تھے۔چنانچہ بعض مفسرین کو بھی یہ اعتراض سوجھا ہے کہ جب ہم اس واقعہ کو بیان کر رہے ہیں تو ہر شخص یہ کہے گا کہ قصور ابن ام مکتوم کا ہے جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم بات کر رہے تھے تو انہوں نے بیچ میں دخل کیوں دے دیا۔آخر ہر شخص جانتا ہے کہ جب دوسرے سے گفتگو کی جا رہی ہو تو اُس وقت اگر کوئی شخص دخل دے دے اور کلام کو قطع کرنے کی کوشش کرے تو وہ تہذیب اور شائستگی کے خلاف حرکت کا مرتکب سمجھا جاتا ہے اور اُسے کسی صورت میں بھی اپنے فعل میں حق بجانب نہیں سمجھا جا سکتا پس جب رسول کریم