تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 221

وجہ سے اُن کی بینائی جاتی رہی۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اُن کو مدینہ کا امیر بھی مقرر فرمایا۔(استیعاب فی معرفۃ الاصحاب جلد ۳ صفحہ ۲۷۶ زیر عنوان عمرو بن قیس بن الاعصم) اس شجرۂ نصب کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنے سے میری غرض یہ ہے کہ یہ کہنا کہ وہ حقیر آدمی تھے اور اُن کی طرف رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی توجہ مفید نہیں ہو سکتی تھی ان واقعات سے بالبداہت غلط ثابت ہوتا ہے اس لئے کہ ان کی والدہ اور والد دونوں زبردست قبائل میں سے ہیں۔اور یہ ایک ایسی عورت کے بھائی ہیں جس کی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے دل میں انتہاء درجہ کی عزّت تھی اور اس حد تک عزت تھی کہ اُن کی وفات کے سالوں بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو اُن پر رشک آجاتا تھا۔حضرت عائشہ ؓ خود بیان کرتی ہیں کہ جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم تکرار اور تواتر کے ساتھ حضرت خدیجہؓ کا ذکر فرماتے تو میں بعض دفعہ بے تاب ہو کر کہتی یا رسول اللہ! آپ اُس بڑھیا کا ذکر چھوڑ یں گے بھی یا نہیں۔اللہ تعالیٰ نے توآپ کو اس سے بہت بہتر عورتیں دے دی ہیں؟ اُس وقت رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اُن کے جواب میں فرماتے عائشہ! تم کو معلوم نہیں خدیجہؓ کے اندر کتنی خوبیاں تھیں اور اس نے میری ایک لمبے عرصہ تک کیسے خدمت کی۔پس حضرت خدیجہؓ کے بھائی اور ماں اورباپ دونوں کی طرف سے زبردست خاندانوں کے فرد کی عظمت صرف نابینا ہونے کی وجہ سے تو نہیں جا سکتی تھی۔آخر تبلیغ زبان سے کی جاتی ہے آنکھوں سے تو نہیں کی جاتی۔پس یہ کہنا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھا کہ ایک حقیر اندھا آدمی میرے پاس آیا ہے میں بڑے بڑے لوگوں کو چھوڑ کر ایسے غریب اور معمولی آدمی کی طرف کیوں توجہ کروں بالبداہت واقعات سے غلط ثابت ہوتا ہے۔پھر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اُن کو دو دفعہ مدینہ کا سردار مقرر کیا اور یہ سردار مقرر کرنا محض لحاظ کے طور پرنہیں ہو سکتا تھا بلکہ اگر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اُن کو سردار مقرر فرمایا تو اس لئے کہ ان میں امارت کی قابلیت تھی اور اس لئے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ عرب ان کی خاندانی عظمت کی وجہ سے انہیں اپنا سردار تسلیم کرنے میں کوئی تکلیف محسوس نہیں کریں گے۔کیونکہ عرب کے دستور کے مطابق کوئی ایسا شخص امیر مقرر نہیں کیا جا سکتا تھاجس کا خاندانی لحاظ سے لوگوں پر اثر نہ ہوتا۔اسی وجہ سے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے جب بھی امیر مقرر کیا ہمیشہ انہی لوگوں کو کیا جو خاندانی لحاظ سے عظمت وشہرت کے مالک ہوتے تھے اور جن کے متعلق یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ لوگوں کو اُن کی اطاعت سے کوئی گریز نہیں ہوگا۔چنانچہ ایک دفعہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے بعد امیر مقرر فرمایا(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام زیر عنوان غزوۃ تبوک)۔حقیقت یہ ہے کہ عربوں میں نسلی تعصب اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ وہ ادنیٰ اقوام یا بے اثر لوگوں کی امارت کو تسلیم ہی نہیں کر سکتے تھے۔یہ تو بہت لمبے عرصہ کے بعد