تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 219

سرانجام دینا ہے اور جن کے ہاتھوں پر اسلام کا غلبہ مقدر ہے۔اِسی لئے تم پوچھتے ہو کہ وہ روحیں آئیں گی کہاں سے جو نَازِعَات۔نَاشِطَات۔سَابِقَات۔سَابِحَات اور مُدَبِّرَات ہوں گی اوران روحوں کو چُنے گا کون؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم چُنیں گے اور کون چُنے گا۔بے شک آج وہ روحیں تم کو نظر نہیں آتیں مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہاری زمین ناسازگار ہے۔تمہارے باغ میں وہ نیکی کے پودے تو لگے ہوئے ہیں مگر زمین کے مناسب حال نہ ہونے کی وجہ سے وہ سُوکھ رہے ہیں۔جب ہم ان پودوں کو اس زمین سے اکھیڑ کر اصل زمین میں بوئیں گے تو اُس وقت تم دیکھو گے کہ وہ کیسےشاندار درخت بنتے ہیں۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا بار بار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں) عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ۰۰۲اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ۰۰۳ (کیا) چیں بجبیں ہو گیا اور مُنہ موڑ لیا؟ (صرف) اس بات پر کہ اُس کے پاس (ایک) نابینا (جسے واقف لوگ جانتے ہیں) آیا؟ حَلّ لُغَات۔عَبَسَ عَبَسَ فُلَاَنٌ وَجْھَہٗ کے معنے ہوتے ہیں قطَّبَہٗ۔اُس نے ناراضگی کا اظہار کرنے کے لئے ماتھے پر شکن ڈال لئے (اقرب) اور تَوَلَّی عَنْہُ کے معنے ہوتے ہیں اَعْرَضَ عَنْہُ وَتَرَکَہٗ۔اس سے اعراض کرلیا اور اُس سے توجہ کو ہٹا لیا۔(اقرب) تفسیر۔سورۃ عبس کا شانِ نزول کہا جاتا ہے کہ عبداللہ بن اُم مکتوم ایک دفعہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تشریف لائے۔یہ اس وقت تک مسلمان ہو چکے تھے یا اگر ظاہری طور پر انہوں نے بیعت نہ کی ہو تو بہرحال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے۔جب یہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئے تو اُس وقت آپ کے پاس عتبہ و شیبہ (ربیعہ کے دونوں بیٹے جو مکّہ کے لیڈروں میں سے تھے) اور ابو جہل اور عباس ابن عبدالمطلب اور امیہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ بیٹھے ہوئے تھے اَور آپ ان کو بڑے شوق سے تبلیغ کر رہے تھے کہ شاید یہ مان جائیں تو اُن کے ذریعہ سے باقی مکّہ والے بھی اسلام میں داخل ہو جائیں باتیں ہو ہی ر ہی تھیں کہ عبداللہ بن ام مکتوم آئے اور انہوں نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ