تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 218
دیکھتے ہیں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکرؓ خلیفہ ہوئے۔جب مکّہ میں یہ خبر اُس جگہ پہنچی جہاں اُن کے والد بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے مدینہ سے آنے والے ایک آدمی سے پوچھا کہ سنائو مدینہ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں انہوں نے پوچھا تو پھر مسلمانوں کا کیا حال ہے؟اُس نے جواب دیا کہ انہوں نے ایک آدمی کی بیعت کر لی ہے۔انہوں نے کہا کس آدمی کی؟ وہ کہنے لگا ابوبکرؓ کی۔انہوں نے حیرت سے پوچھا کون ابوبکرؓ؟ اُس نے جواب دیا ابن ابی قحافہ۔کہنے لگے کون ابو قحافہ؟ اُس نے کہا تم۔پھر انہوں نے مختلف خاندانوں کے نام لے کر پوچھا کہ کیا انہوں نے بیعت کر لی ہے؟جب اُس نے بتایا کہ انہوںنے بیعت کر لی ہے تو وہ کہنے لگے بنو ہاشم کا کیا حال ہے۔کیا انہوں نے بھی بیعت کر لی؟ اُس نے کہا ہاں۔پھر انہوں نے بعض اور قبائل کے متعلق پوچھا اُس نے یہی جواب دیا کہ اُنہوں نے بھی بیعت کر لی ہے۔ابو قحافہ ظاہر میں تو اسلا م لے آئے تھے لیکن ابھی پورے طور پر اُن کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا جب انہوں نے یہ باتیں سُنیں تو تھوڑی دیر تک خاموش سر جھکائے بیٹھے رہے۔اس کے بعد انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں(طبقات الکبریٰ لابن سعد جلد سوم صفحہ ۱۸۴ زیر عنوان ذکر بیعۃ ابی بکر)۔گویا یہ دن اُن کے ایمان کی صفائی کا تھا جس میں اُن کو اسلام کی سچائی کے متعلق حقیقی بصیرت حاصل ہوئی۔اُن کے ذہن میں یہ کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا کہ کوئی دن ایسا بھی آسکتا ہے جب ابوبکرؓ کو عرب کے سارے قبائل اپنا خلیفہ اور بادشاہ مان لیں گے اور یہ بات بھی ٹھیک ہے جس ابو بکرؓ کو انہوں نے پالا تھا اور جس نگاہ سے انہوں نے ابو بکر ؓ کو دیکھا تھا وہ ابو بکر واقعہ میں اُس وقت اس عظیم الشان منصب کے قابل نہیں تھا۔مگر اُس کی وجہ یہی تھی کہ اُنہیں اس مٹی میں اُگایا جا رہا تھا جس سے اُن کو کوئی مناسبت نہ تھی۔جب خدا نے زمین بدل دی اور وہ زمین اس پودے کے مناسب حال ہو گئی تب ابوبکرؓ کی روح کا پودا ابھرااور اُس نے نشوونما پاتے پاتے ایک بہت بڑے درخت کا رنگ اختیار کر لیا۔یہ بالکل ویسی ہی بات ہے جیسے آم کشمیر میںلگادو تو وہ نہیں اُگیں گے۔اور اگر سیب کا درخت پنجاب میں بو دو تو وہ کبھی اچھا پھل نہیں دے گا۔نیک روحوں کے لئے بھی مناسب حال زمین کی ضرورت ہوتی ہےاور زمین کے لئے مناسب حال پودے کی ضرورت ہوتی ہے۔کفر کی زمین میں عتبہؔ شیبہؔاور ابوجہلؔ ہی بڑھ سکتے تھے۔ابو بکر سر نہیں اٹھا سکتے تھے اور ایمان کی زمین میں ابو بکر ؓہی بڑھ سکتے تھے۔عتبہ ،شیبہ اور ابوجہل سر نہیں اٹھا سکتے تھے۔وہ اس زمین میں جھاڑیوں سے بھی زیادہ ذلیل نظر آتے تھے بلکہ جھاڑیاں تو کیا اُن کی گھاس پُھونس جیسی حیثیت بھی نہیں تھی۔اسی مضمون کی طرف اس سورۃ میں اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ تم کو وہ روحیں نظر نہیں آتیں جنہوں نے دین کی اشاعت کا کام