تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 220
اَقْرِئْنِیْ وَعَلِّمْنِیْ مِمَّا عَلَّمَکَ اللّٰہُ تَعَالٰی کہ مجھے قرآن پڑھائیے اور جو کچھ خدا تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے وہ مجھے بھی سکھائیے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اُن کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔جس پر انہوں نے دو تین بار اسی بات کو دُہرایا چنانچہ لکھا ہے وَلَمْ یَعْلَمْ تَشَاغُلَہٗ بِالْقَوْمِ یعنی اُن کو علم نہ ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں سے باتیں کر رہے ہیں۔فَکَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَطْعَہُ لِکَلَامِہٖ وَ عَبَسَ وَاَعْرَضَ عَنْہُ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اُن کے قطع کلام کو ناپسند فرمایا اور آپ کے ماتھے پر شکن پڑے اور آپ نے اُن سے اعراض کر لیا۔اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ توبیخ نازل ہوئی (کشاف زیر آیت ھذا) چنانچہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے بعد میں اُن کو بلا کر اُن کی عزت افزائی کی اور اُن سے باتیں کیں اور اس کے بعد جب کبھی وہ آپ کے پاس آتے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اُن کے لئے چادر بچھادیتے اور انہیں اس پر بیٹھنے کے لئے کہتے۔(فتح البیان زیر آیت ھذا) یہ واقعہ ہے جو اس سورۃ کا شانِ نزول بتا یا جاتا ہے اور وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے ایک اندھے کو حقیر جانا اور یہ سمجھ کر کہ وہ معمولی اور غریب آدمی ہے اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔اور وہ بڑے بڑے خاندانوں کے لوگ جو اس وقت آپ کے پاس موجود تھے اُن کی طرف ہی آپ نے اپنی توجہ رکھی اور یہ سمجھا کہ مشہور خاندانی لوگوں کی طرف توجہ رکھنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے ایک اندھے اور غریب کی طرف توجہ کی کیا ضرورت ہے۔اس روایت کے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ عبداللہ بن ام مکتوم کون تھا۔عبداللہ بن ام مکتوم حضرت خدیجہؓ کے بھائی تھے یعنی اُن کے ماموں کے بیٹے تھے اُن کے نام اور نسب کے متعلق قریب کے ناموں میں اختلاف ہے مگر قوم کے لحاظ سے سب اس بات پر متفق ہیں کہ بنی عامر بن لُؤَیِّ میں سے تھے۔اُن کا نام اور نسب نامہ بعض عبداللہ بن شریح بن مالک بن ربیعۃ الفہری بتاتے ہیں اور بعض عبداللہ بن عمرو بن قیس ابن زائدہ بن الاعصم بتاتے ہیںاور بعض اُن کا نام ہی عمرو بن قیس ابن زائدہ بتاتے ہیں (روح المعانی زیر آیت ھذا) یہ ابن ام مکتوم کیوں کہلاتے ہیں اس کے متعلق زمخشری نے لکھا ہے کہ اُم مکتوم اُن کی دادی کا نام تھا(تفسیر کشاف زیر آیت ھذا)۔لیکن ابن عبدالبرّ اور دوسرے مؤرخین کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے اُن کے نزدیک یہ اُن کی والدہ کی کنیت ہے اور ان کا اصل نام عاتکہ بنت عامر بن مخزوم تھا(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف العین)۔اُن کی کنیت ام مکتوم اس لئے تھی کہ یہ پیدا ہی اندھے ہوئے تھے اس لئے ان کی کنیت ام مکتوم پڑ گئی یعنی اندھے کی ماں۔بعض مؤرخین یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اندھے پیدا نہیں ہوئے تھے کچھ دیر تک اُن کی آنکھیں سلامت رہیں مگر بعد میں کسی