تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 212
تفسیر۔فرماتا ہے تُو توصرف ایک منذر ہے اُس شخص کے لئے جو آنے والے عذاب سے ڈرتا ہے ہاں ہم صرف ایک بات بتا دیتے ہیں اور وہ یہ کہ جب وہ عذاب آئے گا تو لَمْ يَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا وہ اتنے شدید عذاب کا دن ہو گا کہ انہیں اپنی ساری گزشتہ ترقی یُوں معلوم ہوگی جیسے صرف چند گھنٹے رہی۔یہ عذاب کی شدّت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جب انسان کو کوئی شدید تکلیف پہنچے تو اُسے اپنے آرام اور راحت کی گھڑیاں بالکل چھوٹی معلوم ہوتی ہیں اور انسان یوں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ دُکھ میں ہی مبتلا چلا آرہا ہے آرام اُسے کبھی نصیب نہیں ہوا۔پس فرماتا ہے جب وہ عذاب آئے گا تو کفار اپنی ساری گزشتہ شان وشوکت کو بھول جائیں گے اور انہیں اپنی ترقی کا دَور یوں معلوم ہو گا جیسے وہ چند گھنٹے کا تھا۔چنانچہ دیکھ لو جب عرب کی تاریخ بیان کی جاتی ہے تو پانچ دس صفحوں میں عرب کی تمام پہلی تاریخ آجاتی ہے اور باقی دس ہزار صفحوں میں اسلامی حالات کو بیان کرنا پڑتا ہے حالانکہ پُرانی تاریخ کا زمانہ بہت لمبا تھا مگر جب اسلام کا ظہور ہوا تو وہ واقعات ہی مٹ گئے۔وہ حالات ہی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔اب جس کی بھی نظر پڑتی ہے اسلامی دَور پر ہی پڑتی ہے پہلے زمانہ کے حالات پر نہیں پڑتی چنانچہ تاریخ کی کتابیں لکھنے والے چند صفحوں میں سارے عرب کی تاریخ لکھ دیتے ہیں اور پھر ہزاروں صفحات رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور مسلمانوں کے حالات کے لئے وقف کر دیتے ہیں پس جس طرح انسانی زندگی کے مقابلہ میں عشیّہ اور ضحی کا نہایت قلیل حصہ ہوتا ہے اسی طرح فرماتا ہے اسلام کے مقابلہ میں تمہاری تاریخیں مٹ جائیں گی۔تمہاری عظمتیں جاتی رہیں گی۔تمہاری شان وشوکت کی داستانیں دنیا سے محو ہو جائیںگی اور کوئی شخص تمہارے باپ دادا کے کارناموں بلکہ ان کے ناموں تک سے بھی واقف نہیں رہے گا۔یہ ویسی ہی بات ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہامًا فرمایا کہ ینْقَطِعُ مِنْ اٰبَآئِکَ وَیُبْدَأُ مِنْکَ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۹،تذکرہ صفحہ ۶۵) یعنی تیرے آباء کا ذکر منقطع کر دیا جائے گا اور تجھ سے آئندہ تاریخ کا ابتدا ء کیا جائے گا چنانچہ دیکھ لو اگر کوئی تاریخ لکھنا چاہے تو وہ چند صفحوں میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تمام آبائو اجداد کے حالات ختم کر دے گا اور اصل تاریخ اس وقت سے شروع کرے گا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر آئے گا۔حالانکہ دنیوی لحاظ سے وہ بہت بڑی شان رکھتے تھے مگر باوجود اس کے کہ اپنے زمانہ مین وہ بہت بڑی عظمت رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے یہی فیصلہ کیا کہ آئندہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تاریخ کی ابتدا کرے اور آپ کے آباء کے ذکر کو منقطع کر دیا جائے۔اسی طرح فرماتا لَمْ يَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا ہم ان کی تاریخ کو اتنا چھوٹا کر دیں گے اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان کے مقابلہ میں اتنی عظمت دیں گے کہ عرب کی ساری تاریخ