تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 211
اور وہ گھڑی انسانوں کو خدا تعالیٰ تک لے جائے گی۔اصل اہمیت تو اسی امر کی ہے سو یہ ہم نے بتا دیاہے۔چنانچہ دیکھ لو مکّہ کے متعلق جب یہ پیشگوئی کی گئی کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم ایک دن اس کو فتح کریں گے۔مسلمان غالب آئیں گے۔کفار تباہ ہوں گے اور وہ جن کو غلام سمجھ کر مبتلائے آلام کیا جاتا تھا بڑی بڑی عزتیں حاصل کریں گے تو اس کے بعد بھلا یہ کیا سوال رہ جاتا ہے کہ یہ بات جمعہ کوہو گی یا ہفتہ کو۔اس سال ہو گی یا اگلے سال ہوگی؟ دوسری صورت میں جب ان آیات کو اُخروی زندگی کے متعلق سمجھا جائے تو اس کےیہ معنے ہوں گے کہ تقدیر کے دھاگے تو اس کے ہاتھ میں ہیں اور تمام اسباب اس کے قبضہ و تصرّف میں ہیں اس لئے وہ جب چاہے گا اس کا ظہور کرے گا یعنی جو کچھ ہوتا ہے الٰہی منشاء اور اس کے ارادہ کے ماتحت ہوتا ہے بندوں کا اس میں کچھ دخل نہیں ہوتا۔پس جبکہ اس نے تمام تقدیریں اپنے قبضہ میں رکھی ہوئی ہیں تو پھر جب چاہے گا اس ساعت کو ظاہر کر دے گا چنانچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ (لقمان :۳۵)قیامت کے دن کا علم سوائے خدا کے اور کسی کو نہیں۔یہی بات اس جگہ بیان کی گئی ہے کہ اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَا سارے تغیرات تو ہم نے کرنے ہیں تمہاراس سے کیا واسطہ ہے۔اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَاؕ۰۰۴۶كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا ُو تو صرف اُس کو جو اس (آفت) سے ڈرتا ہے ہوشیار کرنے والا ہے۔وہ جس دن اُسے دیکھیں گے (ان کی حالت لَمْ يَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِيَّةً اَوْ ضُحٰىهَاؒ۰۰۴۷ ایسی ہو گی کہ) گویا وہ صرف ایک شام یا اس کی صبح (اس دنیا میں) رہے ہیں۔حل لغات۔مُنْذِرٌ مُنْذِرٌ اَنْذَرَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور اَنْذَرَ کے معنے ہوتے ہیں کسی امر کی حقیقت سے اُسے آگاہ کیا اور اس امر کے نتائج کےظاہر ہونے سے پہلے اُسے ہوشیار کر دیا۔نیز اس کے معنے یہ بھی ہوتے ہیں کہ خبر پہنچاتے ہوئے خوب ہوشیار کر دیا (اقرب) پس مُنْذِرٌ کے معنے ہوں گے۔خبردار کرنے والا۔خطرے سے خوب ہوشیار کرنے والا۔اَلْعَشِیُّ اٰخِرُ النَّھَارِ۔دن کا آخری حصہ۔وَقِیْلَ مِنْ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ اِلَی الْعَتَمَۃِ اور بعض کے نزدیک مغرب سے لے کر عشاء تک کا وقت عَشِیُّ کہلاتا ہے۔(اقرب)