تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 210

والے غالب آتے جا رہے ہیں مگر پھر بھی ان کی طرف سے یہ سوال جاری رہتا ہے کہ ہمیں وقت بتایا جائے ایسا کب ہو گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں اس سے کیا واسطہ۔تم نے تو بہرحال تباہ ہونا ہے تمہیں اگر بتا بھی دیا جائے کہ تم مثلاً چار سال کے بعد تباہ ہو گے تو تمہیں کیا فائدہ ہو گا جب تباہی آئے گی اس وقت خود بخود پیشگوئی کی صداقت واضح ہو جائے گی۔فرماتا ہے يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ یہ لوگ تجھ سے تیری اُن پیشگوئیوں کے بارہ میں جو اسلام کی ترقی اور کفر کے نابود ہونے کے متعلق ہیں سوال کرتے ہیں اور کہتے ہیں اَيَّانَ مُرْسٰىهَا ذرا یہ تو بتائیے کہ آپ کا جو بڑا بھاری جہاز کفار کی تباہی کے لئے آنیوالا ہے وہ کب لنگر انداز ہو گا؟اَيَّانَ مُرْسٰىهَامیں بظاہر تفخیم ہے لیکن درحقیقت اس سے مراد اُن کی تحقیر ہے کہ یہ بُلبلہ پھوٹے گا کب؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا تجھے اس سے کیا واسطہ اس ساعت نےتو تمہیں خدا تک پہنچانا ہے پھر تمہیں اس سے کیا کہ وہ تمہیں چند دن آگے پہنچا دیتی ہے یا پیچھے پہنچا دیتی ہے۔ساعت کے متعلق تمہارا اس قدر اصرار کرنا اور کہنا کہ اس کی تاریخ بتلا دی جائے بالکل غلط ہے۔یہ ساعت تو ایسی ہے جو لوگوں کو ایک دن خدا تک لے جائے گی۔کسی کو مجرم بنا کر اور کسی کو مومن بتا کر۔پس جب ایسا عظیم الشان تغیر پیدا ہونا ہے کہ خدا تعالیٰ کے سامنے کسی نے مجرم ہونے کی حیثیت میں پیش ہونا ہے اور کسی نے مومن ہونے کی حیثیت میں پیش ہو نا ہے تو پھر اس میں ابہام کون سا رہا اور تاریخ پوچھنے کی ضرورت ہی کیا رہی ہم تو تمہارے سامنے یہ خبر پیش کر رہے ہیں کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب ہر شخص خدا تعالیٰ کے دربار میں پیش ہو گا کہ کچھ لوگ مجرموں کی حیثیت میں اس کے سامنے کھڑے ہوں گے اور کچھ لوگ مومنوں کی حیثیت میں اس کے سامنے کھڑے ہوں گے۔کچھ لوگ انعام حاصل کریں گے اور کچھ لوگ عذاب کے مورد بنیں گے۔اتنی بڑی خبر کے لئے کسی تاریخ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں رہتی جب یہ بات وقوع میں آئی تمہیں خود بخود اس کی صداقت معلوم ہو جائے گی۔اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ۰۰۴۵ اس (کے وقت) کی انتہاء (کی تعیین) تو تیرے رب سے تعلق رکھتی ہے۔تفسیر۔ا س آیت میں پیشگوئیوں کے وقوع کی تاریخ معلوم کرنے کی لغویت بتائی ہے اور بتایا ہے کہ وقت معلوم کرنے سے فائدہ کیا۔اصل غرض تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو جائے سو وہ ایک دن ظاہر ہو جائے گا