تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 209
اَلسَّاعَۃُکے معنے ہیں دن یا رات کا کوئی حصہ جس کو اُردو میں ایک گھڑی سے تعبیر کرتے ہیں۔(اقرب) اَلْمُرْسٰی۔اَلْمُرْسٰی اَرْسٰی سے اسم مفعول یا ظرف ہے اور اَرْسَی السَّفِیْنَۃَ کے معنے ہیں اَوْقَفَھَا عَلَی الْاَنْجَرِ۔کشتی یا جہاز کو ان کی بندر گاہ پر لنگر انداز کر دیا یَسْئَلُوْنَکَ اَیَّانَ مُرْسٰھَا اَیْ مَتٰی وَقُوْعُھَا یعنی کب یہ پیشگوئیاں پوری ہوں گی۔(اقرب) فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِکْرٰھَا اس کے ذکر سے تجھے کیا۔فِیْمَ اَنْتَ ایک محاورہ ہے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ تجھے اس سے کیا واسطہ۔یعنی اس ذکر سے تیرا کیا تعلق کہ ایسا کب ہو گا اور کب یہ باتیں وقوع میں آئیں گی۔تفسیر۔پیشگوئیوں کے ظہور کا وقت بتایا جانا ضروری نہیں اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ پیشگوئیوں میں وقت کا بتانا ضروری نہیں ہوتا اور نہ اس سے اصل معاملہ کا کوئی تعلق ہوتا ہے جب تم پر عذاب ہی آنا ہے تو وہ دو دن پہلے آگیا یا دو دن بعد میں آگیا۔اس سے اصل پیشگوئی پر کیا اثر پڑسکتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پیشگوئیوںکے التواء میں بعض حکمتیں بھی ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اُن کو دوسری جگہ بیان بھی کیا ہے لیکن دشمن کا ہمیشہ یہ سوال رہتا ہے کہ جب ایک پیشگوئی کی گئی ہے تو اس کے پورا ہونے کی تاریخ بھی بتا دی جائے اور اس امر کا بھی اظہار کر دیا جائے کہ ایسا کب ہو گا مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہیں اس سے کیا واسطہ۔جب پیشگوئی پوری ہو گئی تم میں سے ہر شخص کو نظر آجائے گا کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ کہا تھا وہ سچ ثابت ہوا۔تمہیں اس کی تاریخ اور وقت اگربتا بھی دیا جائے تو تمیں اس سے کیا فائدہ ہو گا۔حیرت آتی ہے کہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں یہ ذکر آتا ہے کہ کفار یہ کہا کرتے تھے کہ جو پیشگوئیاں ہمارے سامنے کی جارہی ہیں وُہ کب پوری ہوں گی۔ا ور باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں یہ جواب دیا گیا ہے کہ پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا وقت بتانا ضروری نہیں تم اگر ایک سال پہلے مرے یا ایک سال پیچھے مرے تمہارے لئے پیشگوئی کا وقت معلوم ہو جانے میں کوئی فائدہ نہیں تم نے تو بہرحال ہلاک اور تباہ ہونا ہے۔مگر پھر بھی یہی اعتراض مخالفین کی طرف سے بار بار کیا جاتا ہے کہ جس عذاب کے آنے کی خبر دی گئی ہے وہ عذاب آئے گا کب۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مخالفین سلسلہ کی طرف سے بار بار یہی اعتراض کیا جاتا رہا کہ پیشگوئیاں مبہم رنگ میں کی جاتی ہیں اُن کے پورا ہونے کا وقت نہیں بتایا جاتا۔حالانکہ یہ ایسا سوال ہے جس کے جواب سے مخالفین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔نبی کی اصل پیشگوئی تو یہ ہوتی ہے کہ میں کامیاب ہوں گا اور دنیا میرے مقابلہ میں ناکام رہے گی۔یہ پیشگوئی ایسی ہے جس کے لئے کسی خاص وقت کی تعیین کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ اس میں کوئی ابہام ہوتا ہے۔مخالف اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ تباہ ہوتے جا رہے ہیں اور نبی کو ماننے