تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 194

دونوں میں کام کرتا دکھائی دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسی قانون کا اس جگہ ذکر کرتے ہوئے اہل عرب کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے تم اپنے متعلق یہ خیال کرتے ہو کہ تمہارے اندر بہت بڑی قابلیتیں پائی جاتی ہیں۔تم بہادری میں یکتا ہو۔تم سخاوت میں نامور ہو۔تم پابندیٔ عہد میں ایک نمایاں خصوصیت اپنے اندر رکھتے ہو لیکن تمہیںعلم ہونا چاہیے کہ جب تک نبی نہیں آتا اُس وقت تک ان طاقتوں کا مکمل ظہور نہیں ہو سکتا۔نبی کے آنے سے پہلے بے شک قوم میں یہ استعدادیں موجود ہوتی ہیں مگر لوگوں کا دائرۂ عمل نہایت محدود ہوتاہے۔اور بوجہ اس کے کہ کوئی نظام اُن میں نہیں ہوتا ان خوبیوں سے اجتماعی طور پر قوم کو فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔لیکن جب نبی آجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُس کے ذریعہ ایک نیا نظام قائم فرماتا ہے تو اس وقت افرادِ قوم کی استعدادیں اُبھرنی شروع ہو جاتی ہیں اور ہر شخص کا وصف نمایاں ہو کر قوم کے سامنے آنا شروع ہو جاتا ہے۔سخاوت وہ پہلے بھی کر رہے ہوتے ہیں۔بہادری وہ پہلے بھی دکھا رہے ہوتے ہیں۔مہمان نوازی کا وصف اُن میں پہلے بھی موجود ہوتا ہے۔پابندیٔ عہد کی عادت اُن میں پہلے بھی پائی جاتی ہے مگر ان کا دائرہ ایسا محدود ہوتا ہے کہ دنیا کی نگاہ ان خوبیوں کی طرف نہیں اٹھتی۔مگر جب انبیاء کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک نیا نظام قائم کر دیتا ہے اور تمام لوگوں کو ایک سلک میں منسلک کر دیتا ہے تو پھر ہر ایک کی قابلیت نمایاں طور پر دنیا کے سامنے آجاتی ہے اور اُسےاِس امر کا قائل ہونا پڑتا ہے کہ یہ لوگ اپنے اندر ترقی کی حیرت انگیز قابلیت رکھتے ہیں۔اُس وقت ان کی سخاوت بھی ایک تنظیم میں آجاتی ہے۔اُن کی جرأت اور بہادری کی رُوح بھی منظم رنگ میں ظاہر ہوتی ہے اور اُن کی ذاتی اور اخلاقی خوبیاں بھی قوم کے لئے ایک نمونہ قرار پا جاتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ خوبیاں لوگوں میں پہلے بھی موجود ہوتی ہیں مگر اُس وقت رات کی ظلمت نے ان خوبیوں پر پردہ ڈالا ہوا ہوتا ہے جب دن چڑھتا ہے۔جب نبوت کا سورج اُن پر طلوع کرتا ہے تو ہر شخص کی آنکھ ان کی طرف اٹھنی شروع ہو جاتی ہے۔اُن کی وہی خوبیاں جو پہلے کسی کو نظر نہیں آتی تھیں اب ہر ایک کو دکھائی دینے لگتی ہیں اور تحسین و آفرین کی آوازیں ان کے متعلق سنائی دینے لگتی ہیں۔چنانچہ دیکھ لو۔تاریخی شہادت اس امر پر موجود ہے کہ عربوں میں بہادری کی روح پہلے بھی پائی جاتی تھی۔کفر کی حالت میں بھی وہ نڈر تھے۔وہ دلیر اور بہادر تھے۔مگر ان کا یہ وصف دنیا کی نگاہوں سے بالکل اوجھل تھا۔عرب کے لوگ بے شک اپنے اس ذاتی جوہر سے آگاہ ہوں مگر دنیا کا اَور کون سا ملک تھا جو عربوں کی اس بہادری سے واقف تھا؟ پس بے شک عربوں میں بہادری تھی مگر رات کی ظلمت نے اُن کی اس خوبی کو ڈھانکا ہوا تھا جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے نور کی روشنی اُن پر پڑی تو جیسے پالش رنگ کو چمکا دیتی ہے اسی طرح ان کا رنگ چمک گیا۔اُن کی بہادری کی روح اُبھری اور ایسے جوش اور ایسی شان سے اُبھری کہ