تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 193
وَ اَغْطَشَ لَيْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪۰۰۳۰ اور اس کی رات کو (تو) تاریک بنایا ہے اور اس کی دوپہر کو (روشن کر کے) نکالا ہے۔تفسیر۔اَغْطَشَ لَيْلَهَامیں لَيْلَهَا کی ضمیر کا مرجع اَغْطَشَ لَیْلَھَا خدا نے اس کی رات کو تاریک بنایا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا اور اس کے دن کو نکالا یا اُس کی دھوپ یا دوپہر کو ظاہر کیا۔یہ مراد نہیں کہ ایک چیز کو اُس نے دوسری شکل دے دی بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کی رات اندھیری ہے اور اُس کا دن روشن ہے۔اَغْطَشَ لَیْلَھَا میں ھَاء کی ضمیر آسمان کی طرف پھیری گئی ہے اور ضُحٰی میں بھی ضمیر اسی کی طرف لوٹائی گئی ہے۔حالانکہ زمین پررات سورج کے سامنے نہ ہونے کی وجہ سے آتی ہے آسمان پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا اس لئے وہ رات ہماری رات ہوتی ہے آسمان کی رات نہیں ہوتی۔اسی طرح ضُحٰی بھی ہماری ہوتی ہے آسمان کی نہیں ہوتی۔پس یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ دونوں ضمیریں آسمان کی طرف کیوں پھیری گئی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سورج اور چاند چونکہ آسمان کا حصہ ہیں اور رات ہمیشہ سورج کے غروب ہونے سے آتی ہے جو بلندی پر واقعہ ہے اس لئے لَیْل کو سماء کی طرف منسوب کر دیا گیا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ رات آسمان پرآتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ رات جو اس نظام کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اس نظام کا کام دنیا کو روشنی پہنچانا ہے مگر جب دنیا سورج کے سامنے نہیں ہوتی تو روشنی نہیں آسکتی اور اندھیرا چھا جاتا ہے پس رات کو آسمان کی طرف اس لئے منسوب کیا گیا ہے کہ یہ رات نظامِ سماوی سے تعلق رکھتی ہے اور اس کا ایک حصہ ہے۔اسی طرح ہم ضُحٰی کوضُحَی السَّمَآء بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ ہماری ضُحٰی بھی نظامِ سماوی سے تعلق رکھتی ہے۔دُوسرا جواب یہ ہے کہ سماء سے مراد کوئی مادی شئے نہیں بلکہ بالائی جوف ہے اس لئے رات اور دن اس کی طرف منسوب ہو سکتے ہیں۔فرماتا ہے رات اور دن میں سے ایک کو ہم نے تاریک بنایا ہے اور دوسرے کو روشن بنایا ہے۔اس آیت میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ رات گمنامی کا زمانہ ہوتا ہے جس میں انسانی طاقتیں پوشیدہ رہتی ہیں اور اُن طاقتوں کا ظہور اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک دن کی روشنی رات کی ظلمت کو دُور نہیں کر دیتی۔اسی طرح جبتک نبی کا ظہور نہ ہو لوگوں کی قابلیتیں مخفی رہتی ہیں ان کی استعدادوں کا ظہور نہیں ہوتا وہ خواہ طبعی طور پر اپنے اندر بعض اوصاف رکھتے ہوں اُن سے دنیا ناواقف رہتی ہے جب تک نبوت کا سورج ان کی حقیقت کو ظاہر نہیں کر دیتا اور ان کی چھپی ہوئی استعدادوں کو اُبھار نہیں دیتا۔یہ ایک قانون ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عالمِ روحانی اور عالمِ جسمانی