تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 195
آج دنیا کی تاریخیں عربوں کی بہادری کے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔اسی طرح سخاوت کو لو۔اس امر سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ عربوں میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی بعث سے پہلے بھی سخاوت کی روح موجود تھی مگر اسلام کے ظہور نے اہلِ عرب کو یہ سبق دیا کہ و ہ اِحْتِسَابًا اس خُلق سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ کی رضاء اور اُس کی محبت کے حصول کے لئے سخاوت کیا کریں۔پھر دوسرا فائدہ اہلِ عرب کو یہ ہوا۔کہ گو پہلے بھی سخاوت کی روح اُن میں موجود تھی مگر دنیا اُن اس خوبی سے ناواقف تھی اسلام کی روشنی جب اُن کے چہرہ پر پڑی۔جب اُس آفتاب نے رات کی ظلمت کا پردہ چاک کر دیا تو دنیا پر اہل عرب کی سخاوت کا ایسا شہرہ ہوا کہ آج تک اُن کی سخاوت کی داستانیں اَوراقِ تاریخ پر نظر آتی ہیں۔آنحضرت صلعم کی بعثت کا اثر اہل عرب کی عادات پر اسی طرح انسانی اخلاق میں سے ایک نمایاں خلق پابندیٔ عہد ہے جس پر اسلام نے خاص طور پر زور دیا ہے مگر اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ عربوں میں اسلام سے پہلے بھی یہ خوبی موجود تھی۔فرق تھا تو یہ کہ اُن کی اس خوبی کو جِلا حاصل نہیں تھی۔اسلام کا ظہور اُن کی اس خوبی کو نمایاں کرنے کا موجب بن گیا۔اسلام سے قبل ہر شخص اس وصف کو صرف اپنی ذات تک محدود رکھتا تھا قومی معاملات میں اس کی پروا نہیں کی جاتی تھی مگر اسلام نے ذاتی اور قومی ہر دو امور میں پابندیٔ عہد کو ایک ضروری امر قرار دیا۔اور اس کی خلاف ورزی کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بتایا۔اسی طرح جب اسلام کا سورج چڑھا تو اہلِ عرب کو مزید فائدہ یہ ہؤا کہ اُن کے اس حُسن کی طرف دنیا کی توجہ کھچ گئی۔جس طرح رات کو کچھ پتہ نہیں لگتا کہ خوبصورت چیز کون سی ہے اور بد صورت کونسی۔لیکن جب دن چڑھتا ہے تو حُسن والے کا حُسن نمایاں ہو جاتا ہے اور نقص والے کا نقص نمایاں ہوجاتا ہے۔اسی طرح بے شک اہل عرب میں یہ خوبی موجود تھی مگر اسلام نے اُن کی اس خوبی کو ایسی جِلا بخشی کہ تاریخیں اہل عرب کی پابندیٔ عہد کے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ہم بچے تھے کہ ہمیں انگریزی ریڈروں میں یہ واقعہ پڑھایا جاتا کہ سپین میں ایک یوسف نامی تاجر گزرا ہے ایک دفعہ اُس کے لڑکے کو کسی شخص نے قتل کر دیا اور پھر وہ قاتل بھاگ کر اُسی مقتول کے باپ کے پاس گیا اور کہنے لگا مجھے پناہ دو اُسے علم نہیں تھا کہ میں اُسی کے لڑکے کو قتل کر کے آرہا ہوں اور یوسف کو یہ معلوم نہیں تھا کہ میرا لڑکا اسی کے ہاتھوں قتل ہو چکا ہے مگر جب اُس نے کہا کہ مجھے پناہ دی جائے سپاہی میرے تعاقب میں آرہےہیں تو یوسف نے کہا بہت اچھا اور یہ کہہ کر اُس نے اُسے اپنے ایک کمرہ میں چھپا دیا۔تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ سپاہی اُس کے بیٹے کی لاش اٹھائے وہاں آنکلے اور انہوں نے کہا کہ ابھی ابھی ایک شخص نے تمہارے اس بیٹے کو قتل کر دیا ہے اور ہم نے