تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 188
ضرور کوئی اورہستی کام کر رہی ہے جو تمام ضروریات انسانی کو جانتی اور پھر ان کو پورا کرنے کے سامان بھی مہیا کرتی ہے۔خدا تعالیٰ کے خالق ہونے پر نظام عالم کی شہادت پس فرماتا ہے تم اس نظام پر غور کرو۔تم اپنے متعلق خیال کر سکتے ہو کہ ہم اپنے آپ خالق ہیں مگر تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نظام کا خالق اورکوئی نہیں۔اس لئے ہم اپنی خالقیت منوانے کے لئے تمہارے سامنے اسی نظام کو پیش کرتے ہیں تم اس کو اچھی طرح دیکھو اور پھر سوچو کہ کیا تمہارا بھی کوئی خالق ہے یا نہیں۔گویا ایک نہایت ہی لطیف پیرایہ میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کیا گیا۔اگر انسان کو اپنی ذات کی طرف توجہ دلائی جاتی اور کہا جاتا کہ خدا نے تمہیں زبان دی ہے۔کان دئے ہیں۔آنکھیں دی ہیں۔دل دیا ہے۔دماغ دیا ہے۔اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ تمہارا کوئی خالق ہے تو وہ انکار کر دیتا اور کہتا اِس کا فلاں سبب ہے اور اُس کا فلاں سبب ہے۔بیشک ہم گفتگو کرتے ہوئے عام طور پر یہی مثال دیا کرتے ہیں مگر قرآن کریم چونکہ مکمل بات کرتا ہے۔اِس لئے اُس نے کارخانۂ عالم کو اپنی خالقیت کے ثبوت میں پیش کیا ہے کیونکہ دوسری چیز کے متعلق سوچنا اور غور کرنا آسان ہوتا ہے جیسے کہتے ہیں ؎ خوشترآں باشد کہ سِرِّ دلبراں گفتہ آید در حدیثِ دیگراں (مثنوی مولوی معنوی مطبع منشی نول دفتر اول کشور صفحہ ۸) اپنے متعلق سوچنا اور غور کرنا اُتنا آسان نہیں ہوتا جتنا دوسری چیز کے متعلق غور کرنا آسان ہوتا ہے یہی حکمت ہے جس کی بناء پر قرآن کریم نے بجائے یہ طریق اختیار کرنے کے کہ تم غور کرو خدا نے تمہیں آنکھیں دی ہیں۔دل دیا ہے۔دماغ دیا ہے۔کان دئے ہیں۔ہاتھ اور پائوں دئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ تمہارا کوئی خالق ہے یہ طریق اختیار کیا ہے کہ وہ انسان کے سامنے نظامِ عالم کی گواہی پیش کرتا ہے تا کہ اس کے متعلق سوچنا آسان ہو اور وہ لوگ جو ہستی باری تعالیٰ کے قائل نہیں ٹھنڈے دل سے اِس معاملہ پر غور کر سکیں۔دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان اشرف المخلوقات تو بے شک ہے مگر نکلااسی نظام سے ہے اور وُہ اس سارے نظام کا ایک ادنیٰ پُرزہ ہے۔وہ اشرف ہو گیا ہے اپنی دماغی ترقی کیو جہ سے ورنہ جہاں تک اُس کی پیدائش کا سوال ہے وہ اپنی پیدائش کے لحاظ سے اس سارے نظام کا ایک جُزو اور پُرزہ ہے اور خلقت کے لحاظ سے زمین وآسمان کی پیدائش کے سامنے بالکل غیر اہم ہے پس جہاں تک خالی پیدائش کا سوال ہے۔پیدائشِ عالم زیادہ اہم ہے اور پیدائش انسان اُس کے مقابلہ میں بہت حقیر چیز ہے۔بعد میں کوئی چیز ارتقاء حاصل کر کے بڑی ہو جائے تو اِس سے