تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 187
ضرورت پیش آتی ہے تو میلوں میل پر اُس ضرورت کو پورا کرنے کا سامان موجود ہوتا ہے بیشک ہم تسلیم کرلیتے ہیں کہ ایٹمز ATOMS کے ملنے سے یہ دنیا بنی لیکن اگر اس دنیا کا کوئی خدا نہیں تو یہ کس طرح ہو گیا کہ وہ ذرّے اسی طرح آپس میں ملے جس طرح بنی نوع انسان کو ضرورت تھی اور اسی جگہ ملے جہاں انسان کو کوئی ضرورت پیش آنے والی تھی۔ذرّوں کا آپس میں ملنا اتفاق ہو سکتا ہے لیکن اُن ذرّوں کا آپس میں مل کر ہر انسانی ضرورت کو پورا کرنے کا سامان مہیا کر دینا یہ اتفاق نہیں ہو سکتا بلکہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس کارخانۂ عالم کے پیچھے کوئی اور ہستی کام کر رہی ہے۔ہم اگر ایک چمڑا پڑا ہوا دیکھیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ چمڑا یہاں اتفاقی طور پر آگیا لیکن اگر ہمیں ایک بوٹ دکھائی دیتا ہو جو اس چمڑے سے بنا ہوا ہو۔پھر ہمیں وہی چمڑا کہیں صوفوں پر لگا ہوا نظر آئے۔کہیں کرسیوں اور زینوں پر لگا ہوا دکھائی دے تو ان ساری چیزوں کو ہم اتفاق نہیں کہہ سکتے۔پس نظامِ کلی اتفاقی نہیں ہوتا۔جزئی چیز کو بے شک اتفاقی کہا جا سکتا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں خدا تعالیٰ نے ایک طرف آنکھ بنائی اور اُس آنکھ میں یہ مادہ رکھا کہ وہ بغیر روشنی کے نہیں دیکھ سکتی تو دوسری طرف کروڑوں کرروڑ میل پر سورج بنا دیا تا کہ آنکھ اس روشنی کے ذریعہ اردگرد کی چیزوں کو دیکھ سکے۔اب بھلا اس کو کون اتفاق کہہ سکتا ہے؟ یہی حال اور ضروریاتِ انسانی کا ہے کوئی انسانی ضرورت ایسی نہیں جو طبعی ہو اور اُس کو پورا کرنے کے سامان اللہ تعالیٰ نے پیدا نہ فرمائے ہوں۔بعض ضرورتیں ایسی ہیں جن کو پورا کرنے کے سامان اللہ تعالیٰ نے انسانی نفس میں ہی رکھ دئے ہیں۔بعض ضرورتیں ایسی ہیں جن کو پورا کرنے کے سامان اللہ تعالیٰ نے انسان کے اردگرد رکھ دئے ہیںاور بعض ضرورتیں ایسی ہیں جن کو پورا کرنے کے سامان اللہ تعالیٰ نے کروڑوں کروڑ میل پر پیداکر دیئے ہیں۔بہرحال ہر انسانی ضرورت کو پورا کرنے کے سامان اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں پیدا کئے ہوئے ہیں اور یہ نظام اپنی ذات میں ایسا مکمل ہے کہ اس ساری تصویر کو ملا کر کوئی شخص یہ خیال تک بھی نہیں کر سکتا کہ یہ سب کچھ اتفاقی ہو گیا ہے۔پس فرماتا ہے تم اس نظام سماوی اور ارضی کو دیکھو جو خلق میں تمہاری اپنی پیدائش سے بھی زیادہ مشکل ہے۔تم کسی ایک چیز کے متعلق کہہ سکتے ہو کہ وہ اتفاقی ہو گئی۔تم دو کے متعلق کہہ سکتے ہو کہ وہ اتفاقی ہو گئیں لیکن تم اس سارے نظام کو کس طرح اتفاقی کہہ سکتے ہو کہ رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا۔وَ اَغْطَشَ لَيْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۔وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا۔اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۔وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَا۔مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْ(النازعات:۲۹ تا ۳۴)۔نظام کی یہ ساری تصویر جو ہم تمہارے سامنے پیش کر رہے ہیں اس پر غور کرو اور بتائو کہ کیا یہ سب چیزیں اتفاقی ہو سکتی ہیں؟ میں سمجھتا ہوں دنیا کے عجیب سے عجیب فلسفہ پر بھی اگر کوئی شخص اپنے علم کی بنیاد رکھتا ہو تو وہ اسے اتفاقی نہیں کہہ سکتا۔بلکہ اُسے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ کارخانۂ عالم کے پیچھے