تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 189
نفسِ مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا۔پس چونکہ پیدائشِ عالم پیدائشِ انسانی کی نسبت زیادہ اہم ہے اس لئے اللہ تعالیٰ پیدائشِ عالم کو پیش کر کے بتاتا ہے کہ جس نے اتنا بڑا کارخانہ بنا لیا وہ تم کو کیوں نہیں بنا سکتا۔یہ دلیل پیش کرکے اللہ تعالیٰ نے ضمنی طور پر دو ۲ اور اہم مسائل کا بھی فیصلہ کر دیا ہے ایک ؔحیات بعد الممات کا اور دوسرے اسی عالم میں اُس احیاء روحانی کا جو انبیاء کے ذریعہ ہوتا ہے۔پیدائش عالم کا مسئلہ حیات بعد الموت کے لئے ایک دلیل حیات بعدالممات کا تو اس رنگ میں ثبوت دیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا کارخانۂ عالم بنا دیا ہےجو تمہاری پیدائش سے بھی زیادہ اہم ہے اور جس نظام کا تم بھی ایک جزو ہو تو بہرحال تمہیںتسلیم کرنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ دوسرے عالم میں بھی پیدائش کر سکتا ہے۔گویا یا تو یہ تسلیم کرو کہ یہ نظام خود بخود ہے اس کے پیچھے کوئی اور ہستی کام نہیںکر رہی اور اگر تم اس نظام کو دیکھ کر اور اس کی باریک در باریک حکمتوں پر غور کر کے یہ ماننے پر مجبور ہو کہ یہ نظام اتفاقی نہیں ہو سکتا بلکہ ایک اَور ہستی اس نظام کی خالق ہے تو تمہیں ماننا پڑے گا کہ جس خدا نے ایک دفعہ یہ سب کچھ بنا لیا وہ دوسری دفعہ بھی تم کو بنا سکتا ہے گویا ایک ہی دلیل سے اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اپنی ہستی کا ثبوت پیش کر دیا بلکہ حیات بعدالموت کا مسئلہ بھی واضح کر دیا۔آخر بعض لوگ مرنے کے بعد کسی اَور زندگی کے کیوں قائل نہیں؟ اِسی لئے کہ وہ خیال کرتے ہیں ایسا کب ہو سکتا ہے کہ مر کر انسان زندہ ہو جائے۔اللہ تعالیٰ بتاتا ہے تم تو اس نظام کو ایک حقیر سا پُرزہ ہو۔تم غور کرو کہ اتنا بڑا کارخانہ کس نے بنایا ہے۔تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ سب کارخانہ خدا نے بنایا ہے۔جب خدا نے اس دنیا کو بنایا ہے تو جوخدا اتنا بڑا کارخانہ جاری کر سکتا ہے کیا وہ یہ طاقت نہیں رکھتا کہ دوبارہ تم کو پیدا کر دے۔گویا جس طرح فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰى میں عذابِ دنیا کو عذاب آخرت کا ثبوت قرار دیا گیا تھا اسی طرح اِس جہان کی پیدائش کو اگلے جہان کی پیدائش کا ثبوت قرار دیا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ جو خدا اس جہان میں تمہیں پیدا کر سکتا ہے وُہ تمہیں اگلے جہان میں بھی پیدا کر سکتا ہے۔سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ اُس نے دوبارہ پیدا کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے یا نہیں؟ اگر وعدہ کیا ہے تو بات ختم ہو جاتی ہے اور یہ سوال نہیں رہتا کہ وُہ کس طرح کرے گا جب اُس نے اس جہان میں اتنا بڑا نظام پیدا کر کے دکھادیا ہے تو وہ اگلے جہان میں بھی پیدا کر سکتا ہے اُس کے لئے یہ ناممکن بات نہیں۔گویا پیدائش عالم کا مسئلہ حیات بعدالموت کا بھی ایک رنگ میںثبوت ہے۔اسی طرح یہاںروحانی احیاء کا مسئلہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جس خدا نے تمہاری ادنیٰ ادنیٰ ضرورتوں کو پورا کرنے کا اس قدر سامان کیا ہے کیا اُس خدا کے متعلق تم یہ خیال بھی کر سکتے ہو کہ اُس نے تمہارے روحانی اِحیاء کا کوئی